|
|
|
| |
|
|
|
|
| |
گوا کے بعد پونہ دھماکہ اور اب۔۔۔؟
عبدالرحمان صدےقی:
عروس دکن کہے جانیوالے شہر علم وادب پونہ میں ہونیوالے بم دھماکوں نے ایک مرتبہ پھر پورے ہندوستان کو دہلا کر رکھ دیا ہے ۲۶نومبر ۲۰۰۸ کو ممبئی شہر پر ہونیوالے دہشت گردانہ حملوں کے بعد یہ دہشت گردی کی اب تک کی سب سے سنگین واردات ہے ادھر دھماکے ہوئے ادھر انڈین مجاہدین حرکت الجہاد اسلامی اور لشکرطیبہ جیسے ناموں کی فضا میں گونج سنائی دینے لگی یعنی مسلمانوں کوملزمین اور مجرمین کی فہرست میں اپنا نام تلاش کرنیکا سگنل دے دیا گیا ۔ سرکاری مشنری اور میڈیا کے ذریعہ ایک ایسا مائنڈ سیٹ تیار کردیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ کوئی دھماکہ کرہی نہیں سکتا‘ کہیں بھی دھماکے ہوں مسجد میں مندر میں قبرستان میں ہوائی اڈہ پر بس اڈہ پر ٹرین میں خواہ مارے جانیوالے سب کے سب مسلمان ہی کیوں نہ ہوں گرفتار مسلمانوں کو ہی کیا جاتا ہے پونہ دھماکوں کے بعد بھی یہ اشارہ دے دیا گیا ۔ چنانچہ اب اگر کچھ دنوں بعد ملک کے مختلف مقامات سے مسلمانوں کی گرفتاریاں شروع ہوجائیں تو اس پر کسی کو حیرت نہیں ہونا چاہئے۔ گوا دھماکوں کے بعد ایسا لگ رہاتھا کہ حکومت پوری طرح الرٹ ہے اور اب کبھی اس طرح کے دھماکے نہیں ہوگے مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اینٹلی جینس کی ناکامی سے انکار کیا ہے پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ممبئی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہونیوالی دہشت گردانہ واردات کے بعد جس چوکسی اور مستعدی کا اعلان کیا گیا اس کے بعد ہی یہ کیسے ممکن ہوتا ہے کہ دہشت گرداپنا کام پورے اطمینان سے انجام دیکر لاپتہ ہوجائیں اس کے بعد تحقیق اور تفتیش کے نام پر بے گناہوں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوجائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری مشنری ہویا میڈیا ہمیشہ ایک ہی رخ پر سوچتا ہے جب ممبئی اور مالیگاو¿ں میں یکے بعد دیگر دھماکے ہوئے تھے اسی وقت سے ہم یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ جب کوئی واردات اتنی بڑی نوعیت کی ہوتو اس کی تحقیقات میں تمام پہلوو¿ں پر غور ہونا چاہئے اور کسی بھی زاویے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے اس کے باوجود تقریباً تمام وارداتوں میں ایک ہی پٹرن اپنا یا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہاں ایک طرف بے گناہ جیلوں میں ایڑیاں رگڑتے رہتے ہیں وہیں دوسری طرف حقیقی مجرمین بے خوف ہوکر مستقبل کی منصوبہ بندی میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ اس ملک میں سناتن سنستھا ابھینوبھارت اور اس طرح کی کئی ہندوتوادوادی دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں ہم یہاں جان بوجھ کر آر ایس ایس بجرنگ دل درگا واہنی وشوہندوپریشد جیسی تنظیموں کا حوالہ نہیں دے رہے ہیں کیوں کہ یہ خود کو محفوظ رکھتے ہوئے الگ الگ ناموں سے نئی نئی تنظیموں کو آگے بڑھاتی ہیں اور ان کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرتی ہیں۔ اے ٹی ایس مہاراشٹر کے سابق ہیمنت کرکرے نے سرکاری طور پر ہندوتوادی دہشت گردوں کے چہرے سے نقاب اٹھائی تھی اسی وجہ سے ایک سازش کے تحت راستہ سے ہٹادیا گیا ان ہندودہشت گردوں کی رسائی فوج سمیت تمام سرکاری محکموں میں ہے آنجہانی ہیمنت کرکرے کی شہادت کے بعد یہ معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا اس سے پہلے بھی ناندیڑ اور ملک کے کے دیگر مقامات پر ہندوتوادی دہشت گرد پکڑے گئے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی جہاں ایک طرف بے گناہ مسلمانوں کو جیلوں میں ٹھونسا جاتا ہے وہیں دوسری طرف ان ہندوتوادی دہشت گردوں کے ساتھ حکومت نرم رویہ اپنا تی ہے اور اگر کبھی یہ لوگ قانونی شکنجہ میں پھنس بھی جاتے ہیں توبہت جلد چھوٹ جاتے ہیں ۔ پونہ کا دھما کہ غیر متوقع نہیں تھا دہشت گردوں کا سرغنہ ہیڈلی پونہ کا دومرتبہ دورہ کرچکا تھا اور مختلف ذرائع سے یہ اطلاع مل چکی تھی کہ یہاں بھی دہشت گردانہ حملہ ہوسکتا ہے آخر بر وقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی دھماکہ کی اطلاع ملنے پر ہندوتوادی دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر چھاپے کیوں نہیں مارے گئے ان تنظیموں کے ذمہ داران کو پوچھ تاچھ کے لئے کیوں گرفتار نہیں کیا گیا ۔ ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد یہودیوں کے اڈے نریمن ہاو¿س کا نام سامنے آیا تھا پونے میں بھی یہودیوں کے ایک مرکز کا نام سامنے آیا ہے ایک عرصہ سے کوریگاو¿ں کے اس علاقہ میں سرگرم تھا جہاں رجنیش کا آشرم واقع ہے سوال یہ ہے کہ یہودیوں کے ان مراکز کی جانچ کیوں نہیں کرائی جاتی جن کی سرگرمیاں انتہائی پراسرار ہیں سارا نزلہ مسلمانوں پر ہی کیوں گرتاہے۔ پونہ دھماکہ سرکاری مشنری بالخصوص انٹیلی جینس کی ناکامی کا مظہر ہے وہیں دوسری طرف دہشت گردی سے متعلق حکومت کی پالیسی کے اندر موجود بہت بڑے نقص کی بھی نشان دہی کرتا ہے سرکاری مشنری نے یہ مان لیا ہے کہ دہشت گردی کے ڈھانچہ میں صرف مسلمان ہی فٹ ہوسکتے ہیں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ماتحتی میں کام کرنیوالی خفیہ ایجنسیاں مسلمانوں کے اندر خوف کی نفسیات پیدا کررہی ہےں دو روز قبل دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث مسلمانوں کے مقدمات کی پیروی کرنیوالے وکیل شاہد اعظمی کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا اس سے قبل یوپی سے خبریں آئی تھیں کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار مسلم ملزمین کے مقدمات کی پیروی کرنیوالے وکلا پر حملہ کیا گیا اس قسم کی کارروائی کے ذریعہ جو ماحول پیدا کیا جارہا ہے اس کا نتیجہ دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ کی صورت میں ہی برآمد ہوسکتا ہے حکومت کے رویہ میں جو خامی موجود ہے اس کو دور کئے بغیر دہشت گردی پر قابو نہیںپایا جاسکتا۔
14th Feb 2010, 01:12 pm. |
| |
|
|
|
|
| |
قرآن سوزی(نعوذ باللہ) کی گئی تو امرےکہ کی اُلٹی گنتی شروع ہوجائےگی 03-Aug-2010, 01:55 PM |
 |
|
اے ٹی اےس کی سربراہی کانٹوں بھرا تاج 26-Mar-2010, 02:04 PM |
 |
|
یہ اقتدار کاسیمی فائنل ہے فائنل دوسال بعد 11-May-2009, 01:16 PM |
 |
|
ایف آئی آر درج ہونے کے بعد مکوکا کا اطلاق غےر قانونی 11-May-2009, 01:15 PM |
 |
|
ملائم سنگھ ہندوستان کو کدھر لے جارہے ہیں 12-Apr-2009, 02:16 PM |
 |
|
آکولہ کا ملت تعلیمی کیمپس ۔ مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنے کا وسیع مشن فاروق انصاری 16-Mar-2009, 02:09 PM |
 |
|
مودی کے راج میں جو بھی نہ ہوجائے کم ہے! 02-Feb-2009, 12:50 PM |
 |
|
ایک دن میں ۸۶ ہزار افراد بے روزگار! یہ کیا ہورہا ہے بھائی، یہ کیا ہورہاہے؟ 29-Jan-2009, 12:58 PM |
 |
|
ملائم سنگھ یادو کا زعفرانی چہرہ بے نقاب 28-Jan-2009, 12:37 PM |
 |
|
امریکہ کی دشمنی خطرناک ‘ دوستی جان لیوا 11-Jan-2009, 12:49 PM |
 |
|
سیاست دانوں کے بعد اب پولیس افسران کا نمبر 16-Dec-2008, 12:41 PM |
 |
|
نہیں ہے ۱۱ (اور نومبر نہیں ہے ستمبر ) 14-Dec-2008, 12:25 PM |
 |
|
مسلمانوں کی تعلیمی حالت سدھارنے کےلئے مہاراشٹر بھر میں کوچنگ کلاسیز 12-Dec-2008, 11:54 AM |
 |
|
جنگ کیا حل کرے گی مسئلوں کو ‘جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے 11-Dec-2008, 11:58 AM |
 |
|
مکوکا لگانے مےں اے ٹی اےس نے تاخےر کر دی 20-Nov-2008, 12:57 PM |
 |
|
|
|
|
| |
|
|
|