Friday, September 10, 2010, 04:00:06 PM Download Font  |   Urdu Keyboard  |   On-Screen Keyboard  
The Urdu Times Daily, Mumbai
Home Aaj Kal Analysis Editorial Entertainment Sports News Mumbai News Regional News Islamic News World News National News
         
  مسجد شہےد کرنے والوں کو جزا

نافع قدوائی:
ہندوستان کے سب سے بڑے اور انتہائی پیچیدقضیہ بابری مسجد رام جنم بھومی کو حل کرانے میں سابق وزیر اعظیم آنجہانی راجیو گاندھی نے خصوصی دلچسپی لے کر ۱۹۸۹ءمیں الہ آباد ہائی کورٹ کی خصوصی سہ رکنی بنچ کی تشکیل کرا کے اس کے ذ مہ یہ فیصلہ چھوڑ ا کہ وہ یہ طے کرے کہ آیا بابری مسجد کی جگہ پر پہلے کوئی مندرتھا ؟دوئم یہ کہ اس آراضی پر مالکانہ حقوق کیس فریق کے رہے ہیں ؟ یہ دو امور طئے کرنے کیلئے اس خصوصی بینچ سے کہا گیا کہ وہ روز انہ مقدمہ کی سماعت کرے۔ محض یہ دو امور طے کرنے میں ہائی کورٹ کی خصوصی بینچ کو۲۱ بر س لگ گئے بہرحال اب امید ہو چلی ہے کہ شاید بینچ اکتوبر سے قبل تک اس مقدمہ کا فیصلہ کردے ۔ یہ درست ہے کہ خصوصی سہ رکنی بینچ کو اس مقدمہ کی سماعت میں ہرقسم کی قانونی دشواریوں کے ساتھ ہی بار بار بینچ کے تحلیل ہونے کے مرحلے سے بھی گزرنا پڑا ۔ کبھی کسی جج کے تبادلے ،ترقی کی بنا پر تو کبھی کسی جج کے سبکدوش ہونے پر بینچ تحلیل ہوئی اور ہر مرتبہ نئی بینچ بنی ۔ نئی بینچ کے سامنے ہر مرتبہ فریقین کو اپنے مقدمہ کی اب تک کی رو داد دہرانی پڑی ۔ جس کے سبب یہ مقدمہ طوالت کھینچتا رہا ‘دیکھتے ہی دیکھتے مقدمہ کی سماعت کے ۲۱ برس ہو گئے۔ سماعت جاری ہے ۔ بہرحال الہ آباد ہائی کورٹ لکھنو¿بینچ کے حوالے سے ایک اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ہائی کورٹ کی یہ فاضل سہ رکنی بینچ جو مسٹر جسٹس ایس ۔ یو ۔خان ‘مسٹر جسٹس سدھیر اگر وال‘ مسٹر جسٹس ڈی شرما پر مشتمل ہے‘ اس بینچ کے سامنے مسلم فریقین اپنے موقف کے تمام پہلوو¿ں کو رکھ چکے ہیں اور ہندو فریق کی گواہی بھی تقریباً مکمل ہونے کے مرحلے میں ہے ۔ اب اس مقدمہ میں فریقین کی آخری بحث ہونی ہے جوگمان غالب ہے کہ ہائی کورٹ کی موسم گرما کی تعطیلات کے بعد ۵جولائی سے جب یہ بینچ مقدمہ کی سماعت کرے گی ‘ بحث اگست کے آخر یا ستمبر کے پہلے ہفتہ میں مکمل ہوجائے گی اس کے بعد فائنل بینچ کو فیصلہ سنا نا رہ جائے گا‘ فیصلہ اکتوبر ۲۰۱۰ءسے قبل آنے کی اس وجہ سے بھی قوی امید ہے کہ اس فاضل بینچ کے ایک جج ڈی شرما صاحب اکتوبر میں سبکدوش ہورہے ہیں۔ اب کی بینچ سے مسٹر جسٹس رفعت عالم کے ہٹنے کے بعدبینچ میں مسٹر جسٹس ایس یو خان کو شامل کرکے نئی بینچ کی تشکیل کے وقت حکومت ہند کے محکمہ قانون نے یہ صراحت کر دی تھی کہ اب یہ بینچ اس وقت تک سماعت کرتی رہے گی جب تک وہ مقدمہ کا فیصلہ نہیں کرلیتی ہے ۔اس میں بینچ کے کسی جج کے سبکدوش ، ترقی اور تبادلے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ اس یقین سے اور مقدمہ کی اب تک کی رو داد سے آثار صاف نظر آرہے ہیں کہ اب ملکیت کا مقدمہ فیصل ہونے کو ہے۔ مقدمہ کے فیصلہ کی بابت فریق مخالف ہندو وادی فریق عدالت کے اندر اور باہر ایک سے زائدمرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ رام جنم استھان کا تعلق ہندوو¿ں کے عقیدے سے ہے اور کسی عقیدہ کو ملک کی کیا دنیا کی کوئی عدالت طے نہیں کر سکتی کیوں کہ عقیدہ عدالت کے دائرہ اختےار کے با ہر کی چیز ہے ۔ ماضی میں ہندو وادیوں نے اس مقدمہ میں کسی عدالتی احکام کو جو اس کے خلاف ہوئے ہیں آج تک نہیں مانا ہے ۔اور نہ ہی ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ تک اپنی ہدایات پر عمل درآمد کر سکی اور نہ ہی سپریم کورٹ کی صریحاً توہین عدالت کے ارتکاب کرنے والے ہندو وادی غنڈوں کو کوئی سزا دے سکی ۔ بجنر ایک معاملہ میں کلیان سنگھ کو ایک روز کی جیل کی علامتی سزا بحیثیت وزیرعلیٰ کے دینے کے ۔لیکن سپریم کورٹ نے جونرمی برتی اس کا یہ نتیجہ برآمد ہواکہ ۶دسمبر ۱۹۹۲ءکولال کرشن اڈوانی کی قیادت میں ہندووادی غنڈوں کی فوج نے چند گھنٹے کے اندر بابری مسجد مسمار کرڈالی اس کے بعدہندو وادیوں نے پورے ملک میں جشن منایا مسلمانوںکی جان مال سے آگ اور خون کی ہولی کھیلی ۔۶دسمبر ۱۹۹۲ءکوبابری مسجد کی مسماری کے معاً بعد سپریم کورٹ میںمسلمانوں کی طرف سے لال کرشن اڈوانی ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی ،وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ ،اوما بھارتی سمیت یوپی حکومت کے بعض سینئر آئی اے ایس افسران جن میں اس وقت فیض آباد کے ضلع مجسٹریٹ آراین سریواستو ‘بڑے کپتان پولس ڈی بی رائے آئی پی ایس شامل ہیں کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ قائم کیاگیا۔توہین عدالت کے مقدمہ کوقائم ہوئے ۲۱برس گز رچکے ہیں اس کی ہیست نیست کا کوئی پتہ نہیں چلتا ہے جب کہ اس دوران مسلمانوں نے نہ جانے کتنی مرتبہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان سے درخواست گزار کر کے استدعا کی کہ وہ اس معاملے میں قائم توہین عدالت کے مقدمہ کا نبٹارہ اولیت کی بنیا دپر کرکے مسلمانوںکے زخموں پرمرہم لگائیں لیکن سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے مسلمانوں کی اس استدعا کو قابل سماعت نہیں سمجھا جبکہ اِسی سپریم کورٹ نے مسلمانوں کے قائم کردہ توہین عدالت کے بعد نہ جانے کتنے توہین عدالت کے مقدمات میں قصورواروں کو سزا دی جن میں بڑے سرکاری اہلکار بھی شامل ہیں۔ توہین عدالت کے معاملے میں سپریم کورٹ کے رخ کو کسی بھی صورت میں انصاف کے اعلیٰ معیار کے مطابق نہیں کہا جاسکتا ہے ظاہرہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد سپریم کورٹ میں مسلمانوںکا دائرکردہ توہین عدالت کا یہ مقدمہ خارج ہی ہوگیاہوگا۔بابری مسجد کے انہدام کے معاملے کی چھان بین پہلے سی آئی ڈی نے کی بعدمیں اس پورے معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی گئی۔ سی آئی بی نے بابری مسجد انہدام کا مقدمہ چلانے کے لیے رائے بریلی میں خصوصی عدالت قائم کرنے کی اجازت مانگی جب کہ سی بی آئی نے اڈوانی سمیت کل ۶۹ ملزمان میں سے ۲۱بڑے وشاطر ہندووادی ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے لکھنو¿ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت چلانے کی اجازت مانگی اس وقت ریاست میں گورنر راج (صدرراج تھا)صدرراج کے زمانے میں گورنر ہاو¿س میں تعینات سرکاری اہلکاروں نے سازشاً ،دانستہ طور پریا غیر دانستہ طور پررائے بریلی اورلکھنو¿ میں خصوصی عدالتوں کو قائم کرنے کی اجازت تو دے دی لیکن اس میں بعض تکنیکی خرابیاں چھوڑ دی گئیں ۔رائے بریلی میں خصوصی عدالت کرائم نمبر 192/93کے تحت قائم ہوئی جب کہ لکھنو¿ میں خصوصی عدالت کرائم نمبر198/92کے تحت قائم ہوئی دونوں عدالتوں کے قیام کا نوٹیفیکیشن ایک ساتھ ہوا ۔سی بی آئی نے بابری مسجد انہدام کے ۶۹ملزمان میں سے ۲۸ملزمان کے خلاف رائے بریلی کی خصوصی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جب کہ ۲۱ملزمان کے خلاف لکھنو¿ کی خصوصی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔لکھنو¿ میں جن لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ان میں لال کرشن اڈوانی،کلیان ،سنگھ ،مرلی منوہر جوشی ،بال ٹھاکرے ،اشوک سنگھل ،آر این سریواستو،ڈی بی رائے ،اچاریہ کشور،وجیہ راجے سندھیا وغیرہ کے نام شامل ہیں۔خصوصی عدالت کے اسپیشل جج جے پی سریواستو نے ان ملزمان کے خلاف فردجرم داخل ہونے کے بعد ان کوسمّن جاری کردےے۔ کچھ ملزمان نے اسپیشل جج کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا کئی برس تک ہائی کورٹ میں یہ معاملہ زیرسماعت رہا بالآخر ہائی کورٹ لکھنو¿ بیچ جو مسٹر جسٹس جگدیش بھلا پر مشتمل تھی اس نے۱۲فروری ۲۰۰۱ءکو ملزمان کی اپیل منظورکرتے ہوئے یہ کہا کہ ان ملزمان کے خلاف فوجداری کا کوئی مقدمہ نہیں بنتا ہے ۔ہائی کورٹ نے بعض تکنیکی بنیادوں پراڈوانی اوران کے متعدد ساتھیوں کو مقدمہ سے بری کردیا کہ جسٹس جگدیش بھلا نے اپنے فیصلے میں یہ کہا کہ اگر حکومت لکھنو¿ کی خصوصی عدالت کے متعلق نوٹی فیکشن میں ترمیم کردے تو ان ملزمان پرمقدمہ چلایاجاسکتاہے ۔سی بی آئی نے اور اس وقت کی یوپی حکومت کے سربراہ راج ناتو سنگھ نے نوٹی فیکشن میں ترمیم کرنے سے انکار کردیا۔سی بی آئی نے بھی اس معاملے میں خاموشی اختیار کرلی حالانکہ یہ دونوں مقدمہ کے فریق تھی دونوں نے سپریم کورٹ میںاپیل داخل کرنے سے انکار کردیا چنانچہ اس غیرمعمولی صورت حال میں ایک تیسرے فریق نے سپریم کورٹ سے اس معاملے میں اپیل کرنے کی اجازت مانگی چنانچہ سپریم کورٹ میں ایک اپیل سپریم کورٹ کے وکیل مشتاق احمد ایڈوکیٹ نے دوسری اپیل محمد اسلم بھورے اور تیسری اپیل سینئر صحافی کلدیپ نیر‘ سوامی اگنی دیش‘ تیسٹاسیتلو اڈوغیرہ نے داخل کی۔سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیے اس دوران اترپردیش میں راج ناتھ سنگھ کے بجائے مایاوتی حکومت قائم ہوگئی‘ مایاوتی حکومت نے خلاف توقع سپریم کورٹ میں داخل اپنے حلف نامہ میںلکھنو¿ میں عدالت کے قیام کے سلسلے میں تازہ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے معذوری ظاہر کردی نتیجہ میں اڈوانی وغیرہ سمیت ۳۹ملزمان کے خلاف سی بی آئی کی رائے بریلی کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔۶مئی ۲۰۱۰ کو کلیان سنگھ وغیرہ نے لکھنو¿ کی عدالت میں اپنے خلاف مقدمہ چلانے اورتعزیرات ہند کی دفعہ ۱۲۰ بی کے تحت مقدمہ چلانے کے جواز کوچیلنج کردیا جس پرہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس آلوک کمار سنگھ نے ۱۸مئی ۲۰۱۰ کولکھنو¿ کی نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ان ملزمان پرلکھنو¿ کی عدالت میں مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دی ‘نتیجہ یہ ہواکہ آج کی تاریخ میں کلیان سنگھ،بال ٹھاکرے ،اشوک سنگھل،اچاریہ راج کشورسمیت آٹھ ملزمان کے خلاف نہ تورائے بریلی کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے اورنہ لکھنو¿ کی عدالت میں مقدمہ۔ ان لوگوں کے خلاف لکھنو¿ میں دائر چارج شیٹ تادم تحریر رائے بریلی کی خصوصی عدالت میں منتقل نہیں کی گئی ہے گویا ان آٹھ ملزمان پر سرے سے کوئی مقدمہ چل ہی نہیں رہا ہے! جب مقدمہ ہی نہیں ہے سزاکا سوال کیسے پیداہو سکتاہے؟ ان لوگوں کھلا چھوڑ دینے کے خلاف نہ توسی بی آئی نے‘ نہ کسی سیکولر لیڈر‘ نہ کسی مسلم تنظیم نے کوئی آواز بلند کی ہے ۔بابری مسجد انہدام کے تحقیقاتی کمیشن نے تقریباً ۱۷برس کی طول طویل سخت محنت انتہائی جانفشانی کے بعد کم سے کم آٹھ کروڑروپئے خرچ کر کے ۷۰۰صفحات پرمشتمل جواپنی رپورٹ پیش کی اس میں بابری مسجدانہدام کی کارروائی کے باقاعدہ ملزمان کے علاوہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی تک پرمجرمانہ سازش رچنے کے لئے تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۲۰ بی کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی ہے۔رپورٹ پارلیمنٹ میںپیش ہوئے چھ ماہ سے زائد ہو چکے ہیںآج تک حکومت نے کمیشن کے قصوروارٹہرائے گئے۶۹ملزمان میں سے کسی ایک کے بھی خلاف پولس رپورٹ درج نہیںکرائی ہے اورنہ اٹل بہاری واجپئی کے خلاف ۱۲۰بی کے تحت کارروائی کی ۔مسلم تنظیمیں ڈاکٹر من موہن سنگھ حکومت سے رپورٹ لکھانے ‘بقیہ ملزمان پرمقدمہ چلانے کا ایک سے زائد مرتبہ مطالبہ کرچکی ہیں لیکن چونکہ حکومت کی نیت صاف نہیں اس لیے کمیشن کی رپورٹ پرکوئی معمولی سی بھی کارروائی نہیں ہوئی ۔عدالتی تحقیقاتی کمیشنوں‘ چاہے وہ فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق ہوں یا دیگرمسلم معاملات ہرمرتبہ کمیشن کی رپورٹ نے مسلمانوں کو اس لیے مایوس کیا کیونکہ کوئی حکومت ان کمیشنوں کی رپورٹ پرکارروائی کرنا چاہتی ہی نہیںہے ‘یہ محض دکھاوے کی کارروائی ہوتی ہے ۔مسلمان کمیشنوں سے اس درجہ عاجز آچکے ہیں کہ اب وہ بھولے سے بھی کسی معاملے میں عدالتی تحقیقات کرنے کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں‘ عدالتی تحقیقاتی کمیشنوں نے ہمیشہ مسلمانوںکونقصان ہی پہونچایاہے۔بابری مسجد مقدمات سے مسلمانوںکو کوئی فائدہ پہونچے گااس کی توقع لگانا ہی فضول ہے اوراگر ایسی کوئی توقع لگاتا ہے تووہ دراصل احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔آنجہانی نرسمہا راو¿ کی طرح موجودہ وزیر اعظم ”مسکین صورت“سردار من موہن سنگھ کی بابری مسجد سے لے کر مسلم معاملات میں مسلسل خاموشی سے ملک میں ہندوواد ہر طرح سے بڑھ رہا ہے‘ کیسے کیسے”سیکولر“ہندووادیوں کی”پناہ“میںجا چکے ہیں۔ ملک میں سیکولرزم کی نئے سرے سے لڑائی لڑنے کے لئے آج نوجوان کانگریسی لیڈر راہل گاندھی کوآگے آنے اورانہیں جتنی جلدی ممکن ہو سکے وزارت عظمیٰ کی کرسی پربٹھانے کی شدید ضرورت ہے‘ اگرکانگریس قیادت نے یہ موقع گنوادیا تویہ وقت کبھی واپس نہیںآئے گا۔

5th Jun 2010, 01:16 pm.
         
 
کون سنے مری نوا تےز ہوا کے شور مےں
21-Aug-2010, 02:41 PM
آپ اپنے باپ داد ا کی ڈھائی سو کروڑ
21-Aug-2010, 02:41 PM
ہندوستان میں سفےد پوش چوروں کی چاندی
21-Aug-2010, 02:40 PM
شرم تم کو مگر نہےں آتی !
21-Aug-2010, 02:37 PM
اب مائی نےم از خان پارٹ ٹو
21-Aug-2010, 02:37 PM
یو پی اےII کا حال بُرا ہے!
07-Aug-2010, 01:54 PM
ترقی کے جنگل مےں
07-Aug-2010, 01:53 PM
سرکار نہےں صرف عدالتےں مسلمانوں کو انصاف دلا سکتی ہےں
07-Aug-2010, 01:52 PM
کےسے اور کےوں ےو پی اے IIکی منموہن سرکار پر بھروسہ کےا جائے ؟
07-Aug-2010, 01:51 PM
مسلمانوں کو ےا ہندوو¿ں کو ؟
02-Aug-2010, 03:19 PM
اےک امےت شاہ تو گرفتار ہوا
02-Aug-2010, 03:18 PM
مرا قاتل وزیر داخلہ ہے
02-Aug-2010, 03:18 PM
آدی باسےوں اور دلتوں پر مظالم بنام ترقی
02-Aug-2010, 03:18 PM
پولس حراست مےں اموات اصل مرض کیا ہے؟
02-Aug-2010, 03:17 PM
گجرات سرکار فرضی مڈبھےڑ کے معاملے چھپاتی پھررہی ہے
02-Aug-2010, 03:17 PM
 
 
 
Search
       
  کون سنے مری نوا تےز ہوا کے شور مےں  
  آپ اپنے باپ داد ا کی ڈھائی سو کروڑ  
  ہندوستان میں سفےد پوش چوروں کی چاندی  
  شرم تم کو مگر نہےں آتی !  
  اب مائی نےم از خان پارٹ ٹو  
  بہن کے عاشق کو قتل کر کے آنگن مےں دفن کر دےا  
  مصےبت، صبر اور رضا  
  عوامی عدالت  
  اندھیر نگری چوپٹ راج  
  زکوٰ ة دینے کے نام پر درجنوں معذور اپاہج مرد خواتین کو لوٹ لیا  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ  
  مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں  
  اور راز کھل گیا!  
  خدادیکھ رہا ہے  
  دھنک کی کہانی  
  اورپری ناراض ہوگئی  
  ”کالو زندہ باد“  
  ٭تھانے مےونسپل کارپورےشن کے محکمہ حفظان صحت مےں مواقع  
  آخر AMIEگرےجوےٹ لےول فارمل اےجوکےشن کےا ہے؟  
  ہندوستان میں پریمیئر کالج میں حصہ داری  
  مہنگی تعلےم نے مستحق طلبا ءکے ارمانوں کا گلا گھونٹ دےا  
  بےنک آف بڑودہ کو کلرکوں کی ضرورت  
  قصر سفید میں مرد سیاہ....  
  فرقہ پرستی ‘ ڈاکہ وقتل جیسا جرم کیوںنہیں ؟  
  اُمت مسلمہ کے مسائل  
  ادائیگیِ نماز: آداب و احکام  
  بیت المقدس ....کسی ایوبی کے انتظار میں  
  ام المومنےن حضرت عائشہ ؓ  
  خوبصورت لباس اور خوبصورت نظر آنا ہر خاتون کی خواہش  
  رمضان المبارک اور خواتےن کے شب وروز  
  زینب سلیم ڈار  
  ماہ صےام مےں خصوصی پکوانوں کا اہتمام کرےں!  
 
 
 
Home | National News | Regional News | Mumbai News | World News | Islamic World | Aaj Kal | Analysis | Editorial | Entertainment | Sports | Contact us | Privacy Policy
Copyright © Roznama Urdu Times Mumbai | All Rights Reserved.
Site devloped by UNN IT