Friday, April 25, 2014, 02:33:53 AM Download Font  |   Urdu Keyboard  |   On-Screen Keyboard  
The Urdu Times Daily, Mumbai
Home Aaj Kal Analysis Editorial Entertainment Sports News Mumbai News Regional News Islamic News World News National News
         
  نومولود بچوں میں یرقان کی عام٭کے،اے مالیگانوی(9326212939)

مالیگا و¿ں ، بھیونڈی ،ممبئی دھولیہ جیسے شہروں میں یکساں شہرت رکھنے والے پریزم ہومیو پیتھی کیور سینٹر کے روح رواں ڈاکٹر فاروق منشی سے قارئین کی معلومات میں اضافہ کی غرض سے ان کے کلینک پر خصوصی ملاقات کی گئی اور ہومیو پیتھی طریقہ علاج کیا ہے اس کی بنیادی و تفصیلی معلومات حاصل کی گئی ۔ ڈاکٹر فاروق صابر نے بڑی ہی خوش دلی سے بتایا کہ ہومیوپیتھک طریقہ علاج ایک ایسا طریقہ علاج ہے جس کی بنیاد علاج با لمثل ہے ۔ مماثل علامت مرض کودور کرنے کے لئے ایسی دوا کا استعمال کیا جائے جس میں ایسی قوت موجود ہو جو کسی صحت مند آدمی میں مرض کی علامت پیدا کرسکے وہی دوا اس مرض میں کار گر ثابت ہوتی ہے ۔یہی وہ بنیادی قانون ہے جس پر پوری ہومیوپیتھی کی عمارت تعمیر ہے ۔یعنی ہم اس قانون کو Foundation Of Homeopathyبھی کہہ سکتے ہیں ۔ اس طریقہ علاج سے اب تک دنیا کے کروڑوں مریضوں نے مکمل صحت و تندرستی حاصل کی ہے۔ کسی بھی طرح سے ہومیو پیتھی کی افادیت اہمیت وصداقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اس میں ہزاروں شفا بخش فوائد اور صحت و تندرستی کے راز مخفی ہیں۔ ضرور ت اس امر کی ہے کہ طبیب مخلص ہو اور اس طریقہ علاج کی باریکیاں سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ مرض کی کیفیت ، مریض کی نفسیات اور دواو¿ں کے افعال وخواص سے بخوبی واقف ہو ۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد بحال ہو نا چاہئے ۔
ڈاکٹر موصوف نے اس اہم ترین سوال ”کون کون سے امراض میں ہومیو پیتھک طریقہ علاج کار گر ثابت ہوتاہے ؟‘ ‘ کے جواب میں بہت ہی شائستگی سے کہا کہ امراض کی نوعیت چاہے جیسی ہو اس طریقہ علاج میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر کو مریض کی فطرت ،عادات و اطوار ، اخلاق ، کردار ، خاندانی ماحول، مریض کی پسند و نا پسند کے متعلق بھی زیادہ سے زیادہ واقفیت ہونا ضروری ہوتا ہے کیوں کہ مریض سے متعلق جس قدر زیادہ معلومات ہوگی مرض کی تشخیص وعلاج میں اتنی ہی آسانی و سہولت ہوگی ۔ امراض کی نوعیت پر تبصرہ کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ مرد و خواتین کے پرانے امراض ،پوشیدہ امراض ، بچوں کے امراض ،گردہ مثانہ ، اعصاب دل کے امراض یا وہ امراض جن کے علاج و معالجہ کے بعد بھی خاطر خواہ نتائج نہیں مل سکے ہوں اور مریض نا امید و مایوس ہوچکے ہوں ایسے تمام امراض میںہو میو پیتھی طریقہ علاج انتہائی مو¿ثر اور کار گر ثابت ہوتا ہے ۔شرط یہ ہے کہ ہمارا یقین پختہ و مضبوط ہو کہ کیوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کوئی بھی ایسا مرض پیدا نہیں کیا جس کی شفا اس نے نازل نہ کی ہو ۔ ڈاکٹر موصوف اپنی تمام تر مصروفیات کے بعد بھی اپنے تما م تر مریضوں کی حالت و کیفیات سے ہمہ وقت واقف رہتے ہیں ۔ مساجد ، مدارس اور پاور لوم کی صنعت کے لئے مشہور مالیگاو¿ں شہر میں محمد صابر منشی خانوادہ موصوف نے آنکھیں کھولیں ، اگر چہ کہ خاندانی پیشہ صنعت پارچہ بافی رہا لیکن انہوں نے قوم و ملت کے غریب و مستحق مریضوں کی ”تھوڑی خدمت تھوڑی آمدنی “ اس غرض سے شعبہ طب پر اپنی توجہ مرکوزرکھی ۔ پختہ ارادے ، عزائم اور کچھ کر دکھانے کے جذبہ شوق اور لگن نے انہیں ایک ایسا ڈاکٹر بنادیا جس کے ہاتھوں میں مالک نے شفا کی نعمت عطا کی ہے ۔
ڈاکٹر موصوف کے خلوص ولگن کے باعث اب سے پندرہ برس قبل مالیگاو¿ںمیں پریزم ہومیوپیتھک کیورسینٹر کی بنیاد ڈالی گئی جہاں ڈاکٹر اقبال فارانی ،ڈاکٹر خالد شیخ ، ڈاکٹر نہال عبدالرشید و اسٹاف کے دیگر اراکین موصوف کی ہمہ وقت معاونت میں مصروف رہتے ہیں۔ فی الوقت ڈاکٹر فاروق صابر ریاست مہاراشٹر کے مشہورشہروں بالخصوص ممبئی ،بھیونڈی ، اور مالیگاو¿ں میں اپنی طبی خدمات اور دیگر سرگرمیوں کا انجام دے رہے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ایسے مریضوں کی تشخیص کریں جو کسی بھی طریقہ علاج سے ناامید ہوچکے ہیں یا پھر ان مریضوں کے لئے آپریشن کے بغیر کوئی چار ہ نہیں ہے۔ اس طرح کے پیچیدہ اور چیلنج بھرے امراض کی تشخیص کرنے کے دو قائل ہیں ۔
موصوف نے قارئین کے نام اپنے پیغام میں کہاہے کہ معمولی درد یا تکلیف ہونے پر بے تحاشہ انگریزی یا دیگر دواو¿ں کا استعمال نہ صرف مریض کو نفسیاتی اور جسمانی طور پر کمزور کردیتا ہے بلکہ دواو¿ں کا عادی بھی بنادیتا ہے ۔ بغیر ڈاکٹر کے مشورہ یا تشخیص کے دوائیوں کا استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔
ڈاکٹر موصوف شہر مالیگاو¿ںکے معزز خاندان کے چراغ ہیں ۔ اورسماجی ،تعلیمی ،طبی و جزوی طورپر سیاسی شعبہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ،ان کا یہ قول بھی لائق ستائش ہے کہ ”انسان بھلے ہی کسی بھی شعبے میں خود کو وقف کررہا ہو یا خدمت انجام دے رہاہو ۔ اسے وہ خدمت صرف اور صرف فرض سمجھ کر ہی کرنا چاہئے ۔ خصوصاً ایک طبیب اور ڈاکٹر کو کسی نام و نمود،شہرت اور اعزاز کا آرزو مند نہیں ہونا چاہئے ۔
نوٹ : ڈاکٹر فاروق صابر منشی صاحب ذیل کے معمول کے مطابق طبی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ [ڈاکٹر فاروق 9960207482]
ممبئی میں :ہراتوار کی صبح سے دوپہر تک (مولانا آزاد روڈ 87/C، جونی آغا خان بلڈنگ ، پہلا منزلہ ، روم نمبر ۱۲ ممبئی )
بھیونڈی میں : ہراتوار کی دوپہر سے رات تک ( برف گلی ، کوٹر گیٹ ،جونا، ایس ٹی ،بھیونڈی )
مالیگاو¿ں میں : بقیہ تما م دن صبح ۱۱ بچے سے ۲بجے ،شام ۶بجے سے ۱۰ بجے تک (پریزم ہومیو پیتھی کیورسینٹر ،جونا آگرہ روڈ مالیگاو¿ں )
٭نعیم اختر
نو زائیدہ بچوں میں یرقان یا پیلیا کی شکایت بہت عام ہوتی ہے۔ اکثر یہ وقتی نوعیت کاعارضہ ہوتا ہے اور نسبتاً صحت پر اس کے بہت زیادہ برے اثرات مرتب نہیںہوتے تاہم بعض اوقات یہ یرقان کسی سنگین مسئلے کی نشاندہی کر سکتا ہے ۔
سبب کیاہوتا ہے ؟
اس بیماری کو پیلیا یا Joundiceکانام اس وجہ سے دیا گیاہے اس میں جلد اور آنکھوں کے سفید حصے کی رنگت زرد ہوجاتی ہے ۔ اس پیلی رنگت کاسبب خون میں ایک رنگ دار مادے Bilirubinکی کثرت ہوتی ہے ۔
یہ رنگ دار مادہ خون کے سرخ خلیات کے ٹونٹنے سے قدرتی طور پر وجود میں آتا ہے جو مسلسل استعمال کے ذریعے کارآمد بنایا جاتا رہتا ہے ۔ ہمارا جگر خون میں اس کی صفائی کا فریضہ انجام دیتا ہے ۔ جگر غیر مد غم (Unconjugated)بلی زوبن وصول کرتاہے اور اسے باہم جڑے ہوئے بلی روبن میں تبدیل کردیتا ہے جو پانی میں حل پذیر ہوتا ہے ۔ یہ مد غم بلی زوبن صفرے میں شامل ہوکر پتے میں جمع ہوتاہے اور آنتوں کے راستے جسم سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اس عمل کے دوران اگر کسی بھی مرحلے پر کوئی بھی خرابی پیدا ہوجائے تو نتیجے کے طو رپر یرقان یا پیلیا کا مرض سامنے آتا ہے ۔۔بلی زوبن کی زیادتی اس لحاظ سے تشویش ناک بات ہے کہ اس خرابی کی وجہ سے دماغ اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بچے کا غیر مو¿ثر جگر
نو زائید ہ بچوں میں پیلیا کی شکایت عموماً اس وجہ سے دیکھی جاتی ہے کہ بچے کاجگر پوری طرح کام کرنے کے قابل نہیں ہوتا یا اس کے کام کی رفتار سست ہوتی ہے جس کی وجہ سے بلی زوبن کی ماہیت تبدیل کرنے میں اسے دشواری ہوتی ہے ،نو زائید ہ بچوں میں چونکہ خون کے سرخ خلیات کی تبدیلی کی رفتار تیز ہوتی ہے اس لئے یرقان کی صورت زیادہ بگڑ جاتی ہے ۔ نتیجے کے طورپر زندگی کے ابتدائی چند دنوں میں بلی زوبن کی سطح اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ جلد اور آنکھوں کی سفیدی کی رنگت پیلی پڑجاتی ہے ۔ یہ صورت حال کسی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ عضویاتی یرقان کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ اس قسم کا یرقان 90فیصد نوزائیدہ بچوں میں دیکھا جاتاہے ۔ یہ طبی کیفیت بتدریج اس وقت ٹھیک ہونی شروع ہوجاتی ہے جب جگر معمول کے مطابق کام کرنے لگتا ہے ۔ عام حالات میں جب نوزائیدہ بچے کی عمر 10سے 14دن کی ہوتی ہے تو ظاہری یرقان کی علامتیں غائب ہو جاتی ہیں۔جو بچے قبل از وقت پیدا ہوتے ہیں ان میں اس قسم کے یرقان سے نجات کیلئے تقریباً 21دن کا عرصہ درکار ہوتا ہے ۔
مستقل یرقان
بعض اوقات جلد کا پیلا پن پیدائش کے فوراًبعد ابتدائی 24گھنٹوں کے اندر دیکھنے میں آتا ہے اس وقت بھی مسلسل موجود رہتا ہے جب اسے متوقع طورپر ٹھیک ہوجانا چاہئے ۔ مستقل طور پر موجود رہنے والے اس یرقان کے اسباب حسب ذیل ہوسکتے ہیں ۔
٭پیدا ئش کے دوران رگڑیا چوٹ لگنے کی وجہ سے بلی زوبن کی سطح بڑھنے لگتی ہے کیوں کہ بچے کا جسم اس رگڑ یا چوٹ کو درست کرنے کے عمل میں مصروف ہوجاتا ہے ۔ اسی قسم کی صورت حال اس وقت بھی پیش آتی ہے جب پیدا ئش کے دوران بچہ خون نگل لیتا ہے ۔
٭بچے کے خون کے ساتھ اگر مسائل لاحق ہوں تو خلیات کے ٹوٹنے کے عمل میں تیزی (Haemolysis)پیدا ہوجاتی ہے ۔ مثال کے طورپر اگر ماں کے خ©ون کی قسم بچے کے موافق نہ ہوتو ایسی اینٹنی باڈیز تیار کر سکتی ہے جو اسکے بچے کے خون کے سرخ خلیات پر حملہ کر کے انہیں تباہ کردے ۔
٭تھائی رائیڈ ہارمون کی کمی (Hypothyroidism)یا پیچو کیٹری غدود میں بننے والے ہارمون(Hypopituitarism)کی کمی سے بھی یرقان کی شکایت ہوسکتی ہے ۔
٭ورا ثت میں ملنے والے بعض جینیاتی مسائل بھی یرقان میں مبتلا کر سکتے ہیں ۔ ان مسائل کی وجہ سے بلی زوبن کو توڑنے یا تبدیل کرنے والے انزائم اپنا کام بخوبی انجام نہیں دے سکتے۔
٭جگر بعض خرابیوں مثلاً Biliary Atresia میں جگر سے پتے تک لے جانے والی نالی میں اگر کوئی رکاوٹ پیداہوجائے تو اس سے پیلیا کی شکایت ہوسکتی ہے ۔اگر بر وقت اس خرابی کاپتہ چل جائے تو ایک آپریشن کے ذریعے بعد کے پیچیدہ مسائل سے بچنا ممکن ہوتا ہے ۔
٭جراثیم سے پھیلنے والی بیماریاں اور دیگر امراض بھی یرقان کی وجہ ہوسکتے ہیں ۔ مستقل موجود رہنے والا یرقان عموماً ان نوزائیدہ بچوں میں زیادہ دیکھا جاتاہے جنہیں مائیں اپنا دودھ پلاتی ہیں ۔ اس قسم کے دو فیصد بچوں کو تشویشناک قسم کا یرقان ہو سکتا ہے جبکہ بوتل سے دودھ پینے والے بچوں میں مستقل یرقان کی شرح 0.3فیصد ہوتی ہے اسے ماں کے دودھ میں پایا جانے والا یرقان بھی کہا جاتا ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ ماں کا دودھ میں پایا جانے والاایک نامعلوم جزوہوتا ہے جو بلی زوبن کے آنتوں سے واپس جسم میں انجزاب کی رفتار بڑھا دیتا ہے ۔اگر نوزائیدہ بچے کویرقان کا عارضہ طویل عرصے تک برقرار رہے تو فوری طور پر ماں کے دودھ کو الزام نہیں دینا چاہئے تا آنکہ دیگر تمام ممکنہ اسباب غیر متعلق قرار نہ دے دیئے جائیں ۔
علامتیں کیا ہوتی ہیں ؟
یرقان کی واضح علامت جلد اور آنکھوں کے سفید حصے کی رنگت کا پیلا ہوجانا ہے ۔ خون میں شامل جزوبلی زوبن عام طور پر آنتوں کے راستے خارج ہوجاتا ہے جس سے بچے کا فضلہ زردی مائل بھورانظر آتا ہے ۔ اگر جگر کی بیماری کی سبب صفرے کی گزر گاہ بند ہوجائے تو فضلہ مستقل طور پر یا سفیدی مائل ہو سکتا ہے ۔ بغیر جڑے ہوئے بلی زوبن پیشاب کے راستے خارج ہو سکتے ہیں جس سے پیشاب کی رنگت زرد ہوسکتی ہے ۔واضح رہے کہ نوزائیدہ بچوں کا پیشاب تقریباً بے رنگ ہونا چاہئے ۔
علاج کیا ہوتاہے ؟
نوزائید ہ بچوں میں یرقان عضویاتی خرابی کے طور پر سامنے آئے تو عموماً اس میں کسی قسم کے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ طبی ماہرین اس علامتی یرقان میںمبتلا بچے کو روز انہ دھوپ میں زیادہ سے زیادہ دس منٹ تک رکھنے کی سفارش کرتے ہیں ۔ سورج کی روشنی بلی روبن کی تبدیلی میں معاونت کرتی ہے۔ بچے کو دھوپ میں رکھتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ گرمی سے پریشان نہ ہو ۔ اگر بچے کے جسم میں بلی زوبن کی سطح زیادہ ہو تو ڈاکٹر فوٹو تھراپی کا مشورہ دے سکتے ہیں جس میں بچے کوایک خاص قسم کی نیلی روشنی کے نیچے رکھا جاتا ہے یااسے چند روز کیلئے روشنی خارج کرنے والے کمبل میں لپیٹ کر سلایا جاتا ہے ۔
ہرپانچواں مریض دو اکے استعمال میں غلطی کرتا ہے
برطانیہ میںکئے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ہر پانچ سے کم ازکم ایک مریض ڈاکٹر کی تجویز کر دہ دوائیں غلط طریقے سے استعمال کرتا ہے ۔ لائڈ ز فارمیسی کی جانب سے تقریبا ً دو ہزار افراد سے پوچھے گئے سوالات میں معلوم ہو ا ہے کہ اکثر مریضوں نے دواو¿ں کے پیکٹ پر درج ہدایت پڑھنے میں غلطی کی ہے اور انہوں نے یاتو خوراک کی مقدار صحیح استعمال نہیں کی یا غلط وقت پردوائیں لی ہےں۔ سروے کی دوران دمہ کے ایک ایسے مریض کے بارے میں معلوم ہو اکہ جس کی پالتو بلی کی وجہ سے اس پر دمے کے دورے پڑتے تھے ۔ اس بلی پر وہ اپنے انہیلر سے دوا کا چھڑکاو¿ کر کے یہ سمجھتا تھا کہ اسطرح اسے دمہ کی تکلیف سے نجات مل جائے گی ۔ اس سر وے کے نتا ئج اس وقت ظاہر کئے گئے ہیں جب برطانیہ کے قومی صحت کے ادارےS NH نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2007میں برطانوی مریضوں کیلئے لکھے گئے نسخوں کی تعداد 1997کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہوگئی تھی جبکہ دو تہائی نسخہ جات 60سال سے زائد عمر کے مریضوں کیلئے لکھے گئے اور گزشتہ سال ان لوگوں کو فی کس 42.4قسم کی دوائیں دی گئی تھیں جبکہ 1997میں ان دواو¿ں کی تعداد 22.3تھی ۔ لائڈز فارمیسی کے ڈائر یکٹر اینڈی مردوخ نے کہا ہے کہ یہ بات تو ہمیں پہلے سے معلوم ہے کہ اکثر مریض دواو¿ں کاکورس مکمل نہیں کرتے لیکن حالیہ سروے سے ایک مسئلے کا انکشاف ہوا ہے کہ ایسے مریضوں کی تعداد بھی بہت ہے جو غلط طور سے دوائیں استعمال کرتے ہیں ۔ سب سے زیادہ مسائل کا سامنا ان معمر مریضوں کو کرنا پڑتا ہے جو بیک وقت کئی دوائیں لیتے ہیں ۔ ان دواو¿ں کی خوراک یا استعمال کے وقت کے حوالے سے ان میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ۔ ان مریضوں میں سے ایک مریضہ سے جب ان کی دواو¿ں کی خوراک اور استعمال کے وقت کے بار ے میں دریافت کیا گیاتو پتہ چلا کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے صبح بستر سے اٹھتے ہی نیند لانے والی گولی نگل لیا کرتی تھیں ۔ سروے کے دوران دمہ کے ایک مریض نے بتایا کہ اسے اپنا انہیلر استعمال کرنے میں بہت دشواری محسوس ہوتی ہے۔ جب فارماسسٹ نے متعلقہ مریض سے کہا وہ جس طرح انہیلر استعمال کرتے ہیں اس کا عملی مظاہرہ اس کے سامنے کریں تو مسئلہ کھل کر سامنے آگیا ۔ موصوف انہیلر کا بٹن دبانے سے پہلے اس پر لگا ہوا ڈھکن اتارنا بھول جاتے تھے یا اسے غیر ضروری سمجھتے تھے ۔برطانیہ میں جو مریض بیک وقت بہت سا ری دوائیں استعمال کرتے ہیں یا کوئی دوا طویل عرصے سے استعمال کر رہے ہیں ان کی رہنمائی اور جانچ پڑتال کیلئے دوا فروش کمپنیوں کی جانب سے دواو¿ں کے استعمال سے متعلق مفت ہدایات کی فراہمی (Madicines use Review)کا آغاز کر دیا گیا ہے جس سے مریضوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
لوبان سے جوڑو کے درد میں فائدہ
امریکی ریسرچر زنے کہا ہے کہ لوبان میں جوڑوں میںدرد کی بیماری (Arthitis)کی علامتیں دورکرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہیں ۔ لوبان درختوں سے حاصل کی جانے والی ایک قسم کی گوند یا بروزہ ہے جسے جلانے سے خوشبو پیدا ہوتی ہے اور مختلف مشرقی اور عرب معاشروں میں اسکی دھونی کا استعمال عام ہے ۔بر صغیر کے جنگلوں میں اگنے والے درخت Boswelia Serrataسے حاصل کر دہ بروزے کو جب درجنوں مریضوں میں آزمایا گیا تھا انہوں نے اپنے جوڑوں کے درد اور اکڑن میں کمی کا اظہار کیاتھا ۔ آرتھر ائٹس ریسر چ اینڈ تھراپی جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوبان ہزاروں سال سے ہندوستانی آیوویدک دواو¿ں میں استعمال ہورہا ہے ۔ جوڑوں کے درد کی بیماری کی سب سے عام قسم Osteoarthritisسمجھی جاتی ہے اور یہ عموماً ان ہڈیوں کے جوڑوں کو متا ثر کرتی ہے جو وزن براداشت کرتے ہیں مثلاً ہاتھ ،کلائی ، پاو¿ں اور ریڑھ کی ہڈیاں ۔ اس وقت جوڑوں کے درد کے علاج کیلئے جو دوائیں استعمال کی جاتی ہیں ان کے منفی مضر اثرات بہت سے ہیں اور سائنسدان ایک طویل عرصے سے ان دواو¿ں کے بہتر متبادل کی تلاش میں ہیں ۔کیلی فورنیا یونیورسٹی ،ڈیوس میںڈاکٹر معیارے چوہدری کی قیادت میں بوزیلیا سیرانا درخت سے حاصل ہونے والی گوند اور دیگر اجزاءکی خصوصیات کا جائزہ لیا گیا تھا جس مین دیکھا گیا کہ ان اجزا میں ایک مخصوص کیمیائی مادہ AKBA کی مقدار میں موجود ہے جس میں گھٹیا کے مرض سے شفا کی صلاحیت ہوتی ہے ۔اس صلاحیت کو جانچنے کیلئے ریسرچ کے دوران ایسے 70مریضوں کی خدمات حاصل کی گئیں جن کے گھٹنے کے جوڑوں میں شدید تکلیف تھی ۔ ان میں سے کچھ مریضوں کو کم خوراک والے کیپسول کھلائے گئے کچھ کوزیادہ خوراک دی گئی اور بقیہ مریضوں کو جھوٹ موٹ کے کیپسول کھلائے گئے جس میں کوئی دوا موجود نہیں تھی ۔ صرف سات دن کے بعد وہ مریض جنہوں نے لوبان بھرے کیپسول استعمال کئے تھے ، فرضی دوا استعمال کرنے والے مریضوں کے مقابلے میں درد اور جوڑوں کی سختی میں نمایاں کمی اطلاع دے رہے تھے ۔ مریضوں پر ریسرچ کا سلسلہ 90دن تک جاری رہا اور ان کی حالت اس وقت تک کافی بہتر ہوچکی تھی ۔ اس دوران متاثرہ جوڑوںمیں موجودہ سیال انزائم کی سطح بھی جانچی گئی جو بتدریج کم ہوگئی تھی ۔ اس انزائم کی زیادتی سے جوڑوں کا درد ناقابل برداشت ہوجاتا ہے ۔ ریسرچ لیڈر ڈاکٹر اے چوہدری نے کہاکہ ہم نے اپنے تجربات سے یہ ثابت کیا ہے کہ AKBAکیمیکل سے لبریز ویلیا سیراٹا درخت سے حاصل کردہ لو بان میں گھنٹے کے جوڑوں کا درد دورکرنے کی صلاحیت موجود ہے تاہم برطانوی ماہرین نے اس سلسلے میں محتاط پیش رفت کا مشورہ دیا ہے ۔ لیڈز یونیورسٹی کے پروفیسراور آرتھر ائٹس کے علاج کیلئے بلا شبہ بہتر دواو¿ں کی ضرورت ہے لیکن بعض موثر طریقے اپنا کربھی درد کم کیا جا سکتا ہے ۔ مثلا ً پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزشیں ،جھٹکے برداشت کرنے والے جوتوں کا استعمال اور جسمانی وزن میں کمی سے بھی فائدہ ہو سکتا ہے ۔لوبان کے ایک جزو کے استعمال سے جوڑوں کے درد میں مبتلا مریضوں کو فائدہ پہنچنے والی یہ رپورٹ یقینا دلچسپ ہے لیکن اس سلسلے میں مزید زیادہ مریضوں پر طویل آزمائش کے بعد نتائج کی روشنی میں بہتر فیصلہ کیا جا سکتا ہے ۔

26th Aug 2008, 03:08 am.
         
 
”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“
23-Sep-2008, 02:07 AM
ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ
16-Sep-2008, 02:22 AM
”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“
16-Sep-2008, 02:21 AM
روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ
09-Sep-2008, 02:11 AM
مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں
09-Sep-2008, 01:56 AM
امراض چشم کی انقلابی نئی تکنےک ۔ اےف ۔ڈی ۔او۔سی۔ٹی
09-Sep-2008, 01:53 AM
ہومیو پیتھی اور معین بھائی مرحوم (خراج عقیدت )
09-Sep-2008, 01:48 AM
اسے برسات کے موسم میں ہی دمہ ہوتا
09-Sep-2008, 01:46 AM
ہومیو پتھی انہو نی پیتھی “
09-Sep-2008, 01:45 AM
ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“
02-Sep-2008, 02:13 AM
امراض چشم کی انقلابی نئی تکنےک ۔ اےف ۔ڈی ۔او۔سی۔ٹی
02-Sep-2008, 02:12 AM
مسواک اےک نعمت........؟
02-Sep-2008, 02:11 AM
اپنی زندگی کے کیلئے ....دوڑیں
02-Sep-2008, 02:10 AM
پیو ند کاری کے مریضوں کے لئے اچھی خبر
02-Sep-2008, 02:09 AM
شراب سے ذہنی جسمانی ہلا کتیں !
02-Sep-2008, 02:08 AM
 
 
 
Search
       
  سودی معیشت انسانیت اورفطرت دونوں کی دشمن  
  سمجھوتہ ایکسپریس کوبھی بھگوا دہشت گردوں نے اُڑایا تھا  
  ابرار احمد کا ضمیر جاگا تھا حلف نامہ جواب اہمیت اختےار کرگیا ہے  
  ٭شکیل رشید  
  مالیگاو¿ں کے شہری پاٹل سے کیوں ہیں ناراض!  
  بہن کے عاشق کو قتل کر کے آنگن مےں دفن کر دےا  
  مصےبت، صبر اور رضا  
  عوامی عدالت  
  اندھیر نگری چوپٹ راج  
  زکوٰ ة دینے کے نام پر درجنوں معذور اپاہج مرد خواتین کو لوٹ لیا  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ  
  مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں  
  اور راز کھل گیا!  
  خدادیکھ رہا ہے  
  دھنک کی کہانی  
  اورپری ناراض ہوگئی  
  ”کالو زندہ باد“  
  ٭تھانے مےونسپل کارپورےشن کے محکمہ حفظان صحت مےں مواقع  
  آخر AMIEگرےجوےٹ لےول فارمل اےجوکےشن کےا ہے؟  
  ہندوستان میں پریمیئر کالج میں حصہ داری  
  مہنگی تعلےم نے مستحق طلبا ءکے ارمانوں کا گلا گھونٹ دےا  
  بےنک آف بڑودہ کو کلرکوں کی ضرورت  
  قصر سفید میں مرد سیاہ....  
  فرقہ پرستی ‘ ڈاکہ وقتل جیسا جرم کیوںنہیں ؟  
  اُمت مسلمہ کے مسائل  
  ادائیگیِ نماز: آداب و احکام  
  بیت المقدس ....کسی ایوبی کے انتظار میں  
  ام المومنےن حضرت عائشہ ؓ  
  خوبصورت لباس اور خوبصورت نظر آنا ہر خاتون کی خواہش  
  رمضان المبارک اور خواتےن کے شب وروز  
  زینب سلیم ڈار  
  ماہ صےام مےں خصوصی پکوانوں کا اہتمام کرےں!  
 
 
 
Home | National News | Regional News | Mumbai News | World News | Islamic World | Aaj Kal | Analysis | Editorial | Entertainment | Sports | Contact us | Privacy Policy
Copyright © Roznama Urdu Times Mumbai | All Rights Reserved.
Site devloped by UNN IT