Friday, September 10, 2010, 03:53:37 PM Download Font  |   Urdu Keyboard  |   On-Screen Keyboard  
The Urdu Times Daily, Mumbai
Home Aaj Kal Analysis Editorial Entertainment Sports News Mumbai News Regional News Islamic News World News National News
         
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“

کےمو تھےراپی اور آپرےشن آخ:
کےنسر اور ہو مےو پےتھی سےرےز کی ےہ بارہوےں قسط ہے ۔ گذشتہ ہفتے ہم نے اےک نوجوان مرےضہ کے کےس کا حوالہ دےا تھا لےکن بات ادھوری رہ گئی تھی جسے ہم اس قسط مےں مکمل کرنے کی کو شش کرےں گے ۔ ساتھ ہی ہو مےو پےتھی طرےقہ¿ علاج پر مرےضہ اور اس کے بھائی کے تاثرات بھی آپ کے سامنے رکھےں گے۔
جب مرےضہ کی باےو پسی رپورٹ سے ےہ معلوم ہو ا کہ اس کو ہاج کنس لمفوما(Hodgkins Lymphoma) کی شکاےت ہے تو اس نے کےنسر کے ماہر ڈاکٹر ‘ڈاکٹر بو من ڈھابر ( Dr.Boman Dhaber) سے علاج شروع کرا ےا اور انہوں نے کےمو تھےراپی کا علاج شروع کےا ۔ پندرہ سائےکل مکمل ہو نے کے بعد اےسا محسوس ہوا کہ بےماری ختم ہو گئی ہے ۔ ےہ واقعہ سن ۲۰۰۴ءکا ہے۔ اس کے بعد سن۲۰۰۷ءمےں اس مرےضہ کو زبردست ٹائفائےڈ ہو ا۔ اس کے بعد پتہ چلا کہ وہ گانٹھ جو بظاہر ختم ہو گئی تھی اےک مر تبہ پھر ابھرآئی ہے۔ انہوں نے پھر اسی ڈاکٹر سے رجوع کےا ۔ اس مرتبہ ڈاکٹر بو من ڈھابر نے پھر کےمو تھےراپی کا عمل شروع کےا اور مزےد چار سائےکل مکمل کئے لےکن خود ڈاکٹر کو بھی ےقےن نہےں تھا کہ کےمو تھےراپی کے اس عمل کے بعد مرےض کو شفا ہو سکے گی ۔ اس دوران کےنسر کے اےک ماہر ڈاکٹر ڈاکٹر تپن سائےکےا(Dr.Tapan Saikia) نے Bone Marrow Transplant کا مشورہ دےا ۔ ےہ انتہائی مہنگا علاج ہے۔ اس کا بجٹ ساڑھے سات لاکھ روپےہ تھا ۔ ےہاں ہم آپ کو بتادےں کہ کےمو تھےراپی کے اےک سائےکل پر اوسطاًدس سے بارہ ہزار روپئے کا خرچہ آتا ہے۔ مرےضہ کے بھائی صبےح صدےقی نے کہا کہ ”ہماری اتنی حےثےت نہےں ہے ۔ ہم اتنی بڑی رقم خرچ نہےں کر سکتے ۔ چلئے مان لےتے ہےں کہ اتنی بڑی رقم کا کہےں سے انتظام بھی کر لےا تو اس بات کی کےا گارنٹی ہے کہ بون مےرو ٹرانس پلانٹ سے شفا ہو ہی جائے گی؟۔“
مرےضہ کے بھائی کی بات درست بھی تھی ۔ جو لو گ بون مےرو ٹرانس پلانٹس سے واقف نہےں ہےں ان کو ہم بتادےں کہ ےہ اےک انتہائی مہنگا علاج ہے ۔ اس مےں مرےض کے جسم مےں مو جود گودا تبدےل کےا جاتا ہے ۔ اس کے دو طرےقے ہو تے ہےں اےک تو ےہ کہ مرےضہ کے جسم کا گودا نکال کر اسے پاک صاف کر کے (Purity and Culture) کر کے واپس ہڈےوں مےں داخل کر دےا جائے ۔ دوسرا طرےقہ ےہ ہے کہ مرےض کے کسی قرےبی رشتہ دار کا ہڈےوں کا گودا نکال کرمرےض کو منتقل کےا جائے۔ اس عمل مےں لاکھوں روپئے کا خرچ آتا ہے اور مرےض کو کم ازکم تےن ماہ تک اسپتال مےں زےر علاج رہنا پڑتا ہے۔ ےہ انتہائی تکلےف دہ اور اذےت ناک طرےقہ ہو تا ہے جس سے مرےض کو اس کے اہل خانہ کو گذرنا پڑتا ہے۔ اتنا خرچ کر نے اور اتنی تکلےف اٹھانے کے بعد بھی آپرےشن کی کامےابی کے امکانات ۲۰فےصد کے آس پاس ہی ہےں ۔ مرےض کی باقی زندگی بھی صحت مند حالت مےں نہےں گذرتی ۔ مختلف قسم کی تکلےفےں اس کو لگی ہی رہتی ہےں جو براہ راست بون مےرو ٹرانس پلانٹ کا نتےجہ ہے۔ اےک اور نقصان دہ ا ور خطرناک پہلو بون مےرو پلانٹ کا ےہ ہے کہ انسانی جسم کسی دوسرے انسان کے جسم سے نکلا ہوا گودا قبول ہی نہےںکر سکتا ۔ اسکے لئے مرےض کو اےسی دوائےں(Immuno Suppressants) دی جاتی ہےں جس سے اس کی قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے۔ اور انسانی جسم دوسرے انسان کے جسم کا گودامنتقل کئے جانے پر مزاحمت کے لائق ہی نہےں رہ جاتا۔ اس سے بون مےرو ٹرانس پلانٹ کا عمل تو مکمل ہو جاتا ہے لےکن مرےض کی قوت مدافعت ہمےشہ کے لئے کمزور ہو جاتی ہے اور اس کا جسم کسی بھی بےماری کے حملے کا سامنا کر نے کا اہل نہےں رہ جاتا۔ ےہی وجہ ہے کہ بون مےروٹرانس پلانٹ کامےاب ہونے کے بعد مرےض طرح طرح کی بےمارےو ں مےں گھر جاتا ہے اور اس کی عمر زےادہ نہےں ہوتی ۔
بون مےروٹرانس پلانٹ اےلو پےتھی طرےقہ¿ علاج مےں آخری راستہ ہے ۔ خود اےلو پےتھی ڈاکٹر بھی اچھی طرح جانتے ہےں کہ اس کا کچھ خاص نتےجہ نکلنے والا نہےں لےکن بہر حال اےلو پےتھی طرےقہ¿ علاج مےں اےک راستہ ےہ بھی ہے اور اسی بنےاد پر اےلو پےتھی ڈاکٹر اور ماہرےن اس کی سفارش کر تے ہےں ۔ اےلو پےتھی ڈاکٹروں کے پاس اس کے علاوہ کو ئی راستہ نہےں ہے کےونکہ جس اصول و ضابطہ کے تحت ان کی تعلےم ہو ئی ہے وہ اس سے باہر نہےں جا سکتے ۔ ےہ لو گ آےوروےد ، ےو نانی اور ہو مےوپےتھی کو سرے سے خارج کر دےتے ہےں اس لئے ان سے ےہ توقع نہےں کی جاسکتی کہ وہ کسی بھی مرحلے مےں ہو مےو پےتھی آےوروےد ےا ےو نانی کی سفارش کرےں گے البتہ اےسا ضرور ہوا ہے کہ جب اےلوپےتھی ڈاکٹروں نے جب کسی کےس سے ہاتھ اٹھا لےا ہے اور مرےض کے اہل خانہ کو ےہ اختےار دے دےا کہ وہ جس طرح چاہےں علاج کراسکتے ہےں اےسے مرےضوں کا جب ہو مےو پےتھی کے ذرےعہ کامےاب علاج ہو گےا تو ےہ ڈاکٹر بھی دنگ رہ گئے۔
کےمو تھےراپی ےہ اےک انتہائی تکلےف دہ اور خطرناک نتائج کا حامل طرےقہ¿ علاج ہے ۔ کےمو تھےراپی کا طرےقہ تقرےباً دو ےا تےن دہائی پرانا ہے اس مےں کو ئی شک نہےں کہ جب سے ےہ رائج ہوا ہے کےنسر کے مرےضوں کی تکلےف مےں عارضی طور پر کچھ حد تک کمی آئی ہے۔ پہلے کے مقابلہ مرےضوں کو تھوڑی سی راحت محسوس ہو رہی ہے لےکن بنےادی طور پر ےہ حد درجہ نقصان دہ عمل ہے ۔ کےموتھےراپی مےں عام طور پر اےک سائےکل پورا کر نے مےں تےن دن لگ جاتے ہےں ۔ جسم مےں نسوں کے ذرےعہ تےز اثر کےمےکل داخل کئے جاتے ہےں۔ ان تےن دنوں تک مرےض بے حس و حرکت اسپتال کے بستر پر لےٹا رہتا ہے اور اس پر اےک سائےکل مےں دس سے بارہ ہزار کا خرچ بھی آتا ہے اور ہر تےن ہفتے کے وقفے سے بےماری کے اعتبار سے اسے دہرانا پڑتا ہے۔اس مےں جسم کے اندر جو کےمےکلس داخل کئے جاتے ہےں وہ عام طور پر کےنسر کے جراثےم کے ساتھ ساتھ ان خلےات کوبھی ختم کر دےتے ہےں جو انسانی جسم کے لئے مفےد ہےں۔ اس کا سائےڈ افےکٹ بھی بہت خطرناک ہو تا ہے ۔ عموماً سر اور جسم کے تمام حصوں کے بال اڑ جاتے ہےں جس سے سماج مےں مرےض کو کافی شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے ۔ لو گ اےسے شخص سے دور رہنے لگتے ہےں ۔ اس کے علاوہ جان لےوا قسم کی قے ، جسم مےں جلن او ربے چےنی گھبراہٹ اور دےگر کےفےتےں رونما ہو تی ہےں ، انسان نارمل زندگی گذارنے کے لائق نہےں رہ جاتا ۔ اس کے ساتھ ہی کےمو تھےراپی کے اثرات ، خون پر،جگرپر اور جسم کے دےگر اعضا پر بھی پڑتے ہےں ۔ خون مےں ہےمو گلوبےن اور دےگر خون کے خلےات کم ہو جاتے ہےں اور انتہائی درجے کی کمزوری اور تھکاوٹ پےدا ہو جاتی ہے۔
اب آئےے اس مرےضہ کی طرف ۔ےہ مرےضہ کےمو تھےراپی کے عمل سے تو گذر چکی تھی لےکن بون مےرو ٹرانس پلانٹ کی ہمت نہ تو مرےضہ جٹا پائی اور نہ اس کے گھر والے۔مرےضہ کے بڑے بھائی صبےح صدےقی جو پرنس علی خان اسپتال مےں ہی ڈاکٹر تپن سائےکےا(Dr.Tapan Saikia) او ر ڈاکٹربومن ڈھابر(Dr. Boman Dhabar) کے ماتحت کلےنکل رےسرچ مےں انٹرن شپ کر رہے تھے اےک مےڈےکل پروفےشنل ہ نے کی حےثےت سے بون مےرو ٹرانس پلانٹ کی حقےقت سے اچھی طرح واقف تھے ۔ کسی بھی حال مےں اسکے لئے تےار نہےں تھے ۔ مالی پرےشانےاںاپنی جگہ تھےں ۔ وہ چاہتے ہی نہےں تھے کہ مرےضہ اس مرحلے سے گذرے ۔ اسی دوران ان کی ملاقات ناگپاڑہ علاقہ کے مشہور اور کامےاب جنرل پرےکٹشنر ڈاکٹر اکرم خان صاحب سے ہو ئی ۔ انہوںنے مشورہ دےا کہ بجائے بون مےروٹرانس پلانٹ کے آپ ڈاکٹر انور امےر ( ےعنی مجھ سے) رجوع کرےں اور علاج شروع کرےں۔ ڈاکٹراکرم کی سفارش پر مرےضہ ہمارے پاس آئی ۔ ےہ مارچ ۲۰۰۸ءکی بات ہے۔ ہم نے بسم اللہ کہہ کر اس کا علاج شروع کےا اور ۱۵ دنوں مےں ہی نماےاں سدھار نظر آنے لگا۔ آج مرےضہ پو ری طرح صحت مند اور تندرست ہے۔ بےماری کے اثر سے پےدا ہو نی والی تھکاوٹ بھی ختم ہو چکی ہے ۔خون مےں ہےمو گلوبےن کی مقدار بھی نارمل ہو گئی ہےاور تمام غدود کی سوجن او رگانٹھ ختم ہو گئی ہے ۔ مرےضہ اپنے تعلےمی کےرےئر کو لے کر پوری طرح سے مطمئن اور ہر طرح کی محنت و مشقت کے لئے خود کو پو ری طرح فٹ محسوس کر تی ہے۔مرےضہ ، اس کے بھائی اور اہل خانہ سب کے سب ہو مےوپےتھی سے حد درجہ متاثر ہےں۔
مرےضہ زےبا صدےقی کا کہنا ہے کہ ” لو گوں کو چاہئے کہ اےڈز ، کےنسر اور جذام جےسے امراض کہ جنہےں لا علاج سمجھا جاتا ہے اےلو پےتھی کے بجائے ہو مےو پےتھی کو پہلی ترجےح دےں۔کےنسر کے کےس مےں کےموتھےراپی، بون مےرو ٹرانس پلانٹ اور دےگر سرجری کی طرف پہلا آپشن سمجھ کر بھاگنے کے بجائے ہو مےوپےتھی کو پہلی ترجےح دےں ۔ انشاءاللہ باقی چےزوں کی نو بت ہی نہےںآئے گی جس کا جےتاجاگتا ثبوت مےںخو د ہوں۔ ڈاکٹر انور امےر کے ہو مےو پےتھی علاج نے مجھے اتنامتاثر کےا ہے کہ اب مےں اپنی تعلےم مکمل کر نے کے بعد ڈاکٹر انور امےر کے تحت ہو مےو پےتھی سےکھوں گی اورہو مےو پےتھی علاج کے ہی ذرےعہ سماج کی خدمت کروں گی ۔ مےں ڈاکٹر انور کی شکر گذار ہوں جنہوں نے نہ صرف مےرامکمل علاج کےا بلکہ ہو مےو پےتھی کی اہمےت او افادےت سے روشناس کراےا۔“
مرےضہ کے بڑے بھائی صبےح صدےقی کا کہنا ہے ”برطانےہ کا شاہی خاندان اوردنےا کے کئی نام ور لو گ اپنا علاج صرف ہو مےو پےتھی طرےقہ سے کر اتے ہےں۔ مہاتما گاندھی اوررابندر ناتھ ٹےگور بھی اس کے قائل تھے ۔ اب عام ہندوستانی سماج کو بھی جاگ جانا چاہئے“
مزےد معلومات کے لئے رابطہ :۔
پروفےسر ڈاکٹر انور امےر MD
ہومےو پےتھک ہےلتھ اےنڈ رےسرچ سےنٹر
51پٹیل آرکےڈ ۔ پہلا منزلہ ۔ کےڈی ٹاورس
233/234بےلاسس روڈ ۔ بمقابل ساگر ہو ٹل
ناگپاڑہ جنکشن ممبئی 400008
وقت:۔ 10:30am to 3:30 pm
فون :۔23004757
(2)تمےز کلےنک ۔ سی برےز بلڈنگ
93/95کےڈل روڈ ۔ نزد ماہم درگاہ ،ماہم مےڈ کو کے پےچھے
ماہم ممبئی 400016
وقت:۔5pm to 7pm
فون :۔24451354
email:- dranwaramir@hotmail.com
dranwaramir@gmail.com
نوٹ: ۔ ےہ آرٹےکل اردو ٹائمز کے وےب سائٹ www.urdutimes.inپر بھی دےکھا جا سکتا ہے۔
٭٭٭۔

16th Sep 2008, 02:21 am.
         
 
”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“
23-Sep-2008, 02:07 AM
ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ
16-Sep-2008, 02:22 AM
روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ
09-Sep-2008, 02:11 AM
مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں
09-Sep-2008, 01:56 AM
امراض چشم کی انقلابی نئی تکنےک ۔ اےف ۔ڈی ۔او۔سی۔ٹی
09-Sep-2008, 01:53 AM
ہومیو پیتھی اور معین بھائی مرحوم (خراج عقیدت )
09-Sep-2008, 01:48 AM
اسے برسات کے موسم میں ہی دمہ ہوتا
09-Sep-2008, 01:46 AM
ہومیو پتھی انہو نی پیتھی “
09-Sep-2008, 01:45 AM
ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“
02-Sep-2008, 02:13 AM
امراض چشم کی انقلابی نئی تکنےک ۔ اےف ۔ڈی ۔او۔سی۔ٹی
02-Sep-2008, 02:12 AM
مسواک اےک نعمت........؟
02-Sep-2008, 02:11 AM
اپنی زندگی کے کیلئے ....دوڑیں
02-Sep-2008, 02:10 AM
پیو ند کاری کے مریضوں کے لئے اچھی خبر
02-Sep-2008, 02:09 AM
شراب سے ذہنی جسمانی ہلا کتیں !
02-Sep-2008, 02:08 AM
اسے برسات کے موسم میں ہی دمہ ہوتا
02-Sep-2008, 02:07 AM
 
 
 
Search
       
  کون سنے مری نوا تےز ہوا کے شور مےں  
  آپ اپنے باپ داد ا کی ڈھائی سو کروڑ  
  ہندوستان میں سفےد پوش چوروں کی چاندی  
  شرم تم کو مگر نہےں آتی !  
  اب مائی نےم از خان پارٹ ٹو  
  بہن کے عاشق کو قتل کر کے آنگن مےں دفن کر دےا  
  مصےبت، صبر اور رضا  
  عوامی عدالت  
  اندھیر نگری چوپٹ راج  
  زکوٰ ة دینے کے نام پر درجنوں معذور اپاہج مرد خواتین کو لوٹ لیا  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ  
  مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں  
  اور راز کھل گیا!  
  خدادیکھ رہا ہے  
  دھنک کی کہانی  
  اورپری ناراض ہوگئی  
  ”کالو زندہ باد“  
  ٭تھانے مےونسپل کارپورےشن کے محکمہ حفظان صحت مےں مواقع  
  آخر AMIEگرےجوےٹ لےول فارمل اےجوکےشن کےا ہے؟  
  ہندوستان میں پریمیئر کالج میں حصہ داری  
  مہنگی تعلےم نے مستحق طلبا ءکے ارمانوں کا گلا گھونٹ دےا  
  بےنک آف بڑودہ کو کلرکوں کی ضرورت  
  قصر سفید میں مرد سیاہ....  
  فرقہ پرستی ‘ ڈاکہ وقتل جیسا جرم کیوںنہیں ؟  
  اُمت مسلمہ کے مسائل  
  ادائیگیِ نماز: آداب و احکام  
  بیت المقدس ....کسی ایوبی کے انتظار میں  
  ام المومنےن حضرت عائشہ ؓ  
  خوبصورت لباس اور خوبصورت نظر آنا ہر خاتون کی خواہش  
  رمضان المبارک اور خواتےن کے شب وروز  
  زینب سلیم ڈار  
  ماہ صےام مےں خصوصی پکوانوں کا اہتمام کرےں!  
 
 
 
Home | National News | Regional News | Mumbai News | World News | Islamic World | Aaj Kal | Analysis | Editorial | Entertainment | Sports | Contact us | Privacy Policy
Copyright © Roznama Urdu Times Mumbai | All Rights Reserved.
Site devloped by UNN IT