|
|
|
| |
|
|
|
|
| |
”کالو زندہ باد“
٭سید ماجدعلی:
سندر بن میں برسوں بعد برسات ہوئی تو جانوروں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے ۔ لیکن ان کی یہ خوشی زیادہ دن قائم نہ رہ سکی ، لگا تار تیز بارش ہونے سے ندی نالے سب پوری طرح بھر گئے تھے ، اور بارش رکنے کانام نہیں لے رہی تھی ۔ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیاتھا ۔ ندی میں پانی ز یادہ آجانے سے سندر بن میں سیلاب آگیا تھا ۔ جانوروں کے مکان پانی میں ڈوب گئے اور بہت سے گھر تو گر گئے ۔ ان میں دب کر بہت سے جانور مر گئے تو بہت سے پانی میں بہہ گئے ۔ ان کو پتہ نہیں چلا ۔ چاروں طرف سیلاب سے تباہی مچی ہوئی تھی ۔ سیلاب سے سندر بن کی جیل کی دیواریں بھی گر گئیں ۔ دیواریں گریں تو اس میں بند قیدی بھی بھا گ کھڑے ہوئے۔
ان قیدیوں میں کا لوبلا بھی تھا ۔ کالو بلا بہت خطرناک بلا تھا ۔جنگل کے چھوٹے جانور تو اس کے نام سے تھرتھر کانپتے تھے ۔ نہ جانے کتنے چھوٹے جانوروں کا وہ شکار کر چکا تھا ۔ وہ بڑی مشکل سے پکڑ ا گیا تھا ۔ جیل میں کالو اپنی زندگی کے بچے کھچے دن کاٹ رہا تھا کہ سیلاب آنے کی وجہ سے ا س کوبھی بھاگنے کو موقع مل گیا ۔اب وہ بھی آزاد تھا ۔ ہر کسی کو اپنی جان کی فکر ہوئی تھی ، اسے فکر لگی ہوئی تھی ، اسے کون پکڑتا ۔”بچاو¿ ،میں ڈوب رہا ہوں ۔“ جیل سے نکل کر کالو اپنے چھپنے کے لئے جگہ تلاش میں تھا کہ اس وقت اچانک کسی کی آواز سنائی دی ۔
کالو نے مڑ کر دیکھا تو چیکو خر گوش پانی میں ڈبکیاں کھاتا ہوا مدد کے لئے آوازیں دے رہا تھا ۔ کسی بھی لمحے وہ ڈوب سکتا تھا ۔
”مجھے اس سے کیا؟ مجھے تو جلد سے جلد کہیں جا کر چھپ جانا چاہئے کہیں سپاہی مجھے پھرسے نہ پکڑ لیں ۔“ کالو یہ سوچ کر آگے بڑھ گیا ۔
”کالو بھیا،میری ممی پانی میں ڈوب رہی ہےں ۔ پلیز،انہیں بچالیں ۔“ کسی مرغی کے بچے نے کالو سے مدد کی التجا کی ۔
ننھے بچے کی پکار سن کر کالو کے پاو¿ں تھم گئے ۔”کچھ بھی ہو ، اپنے جنگل کے ان معصوم جانوروں کومصیبت میں پڑا چھوڑ کر میں کہیں اور کیسے جا سکتا ہوں ۔“ کالو سوچنے لگا ۔
پھر اپنی جان کی پروانہ کرتے ہوئے کالو پانی میں کود گیا ،وہاں ڈوبتے ہوئے چیکو خرگوش اور مرغی ، دونوں کو اپنی پیٹھ پر لاد کر پانی سے باہر لے آیا ۔
”ہماری جان بچانے کا شکریہ ۔“ دونوں نے کالو کی طرف احسان مند نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو کالو کو اچھا لگا۔
اس نے دیکھا کہ بہت سے ایسے جانور بھی تھے جنہیں تیرنا نہیں آتا تھا اور پانی میں ہچکو لے کھا رہے تھے ۔
’اگر انہیں نہیں بچایا گیا تو بہت برا ہوجائے گا ۔ “کالو نے سوچا اور طے کیا کہ وہ ان سب جانوروں کی مدد کرے گا ۔
اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو اسے بانس کی بنی ایک ٹوکری دکھائی دی ۔ کالو اسے اٹھا لایا اور تھوڑی مرمت کر کے اس نے ٹوکری کو کشتی کے طو رپر استعمال کے قابل بنالیا اور پانی میں اتار دیا۔
ٹوکری میں سوار کالو، ان جسے پانی میں ڈوبتا دیکھتا ، اسے ٹوکری میں بٹھا لیتا ۔ پھر ایک ہاتھ سے چپو چلات ہوا کسی ایک جگہ کی طرف بڑھ لیتا ، جہاں پانی نہ ہو ۔
شکار کی تلاش میں کالو نے جنگل کا چپا چپا چھان رکھا تھا۔اس لئے اسے جنگل کی پوری معلومات تھیں ،جنوب کی طرف ایک ٹیلا تھا ،جس پر ایک پرانا غار تھا ، کبھی وہاں جنگل کا شہنشاہ شیر رہتے تھے ۔ وہ غار سیلاب سے دور اونچائی پر تھا ۔
کالو نے ایک ایک کرکے بہت سے جانوروں کو اپنی کشتی میں بیٹھا کر غار میں پہنچا دیا۔ وہاں پہنچ کر ان ننھے جانوروں نے سکھ کاسانس لیا ۔ صبح سے شام ہو گئی ۔کالو چکر لگا لگا کر نڈھا ہو چکا تھا ،تب ہی سپاہیوں کی نظر اس پر پڑگئی ۔
” دوبارہ کالو۔ پکڑ لو ،کہیں بھاگ نہ جائے “ سپاہیوں نے کہا۔
وہ کالو کو پکڑ کر لے گئے اور اسے شہنشاہ کے سامنے پیش کیا گیا ۔
” چھوڑ دو اسے شہنشاہ نے حکم دیا ۔“
”اے جنگل کے شہنشاہ جان کی امان پاکر عرض کرنا چاہوں گا کہ کالو ایک خونی اور چھٹا ہوا بدمعاش ہے“ ایک سپاہی بولا۔“
”ہے نہیں تھا ۔ ہمیں سب معلوم ہے ۔ اس نے اپنی جان پر کھیل کر ننھے جانوروں کی جان بچائی ۔اگر یہ بد معاش ہوتا توایسا کرنے کے بجائے کہیںچھپ جاتا “
شہنشاہ بولا ۔” اس نے خود کوبدلنے کا فیصلہ کیا ، اس بات سے ہم خوش ہیں ۔“
اسی وقت وہ جانور ، جن کی کا لو نے جان بچائی تھی ۔ اکٹھے وہاں پہنچے گئے ۔
” شہنشاہ ، کالو کو سزا نہ دیجئے ۔ اسے چھوڑ دیجئے ۔‘ ‘وہ سب ایک ساتھ بولے ۔
جنگل کے شہنشاہ شیر نے ، کالو کی تمام سزا ئیں معاف کرتے ہوئے اسے شاہی دربار میں نوکری
دینے کا اعلان کیا ۔ تما م جانوروں نے ”شہنشاہ زندہ باد“کانعرہ لگایا ۔
اچھائی کا پھل میٹھا ہوتا ہے ،یہ بات جب کالو کے سمجھ میں آئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ اس نے جانوروں سے اپنے برے کاموں کی معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ اب وہ ہمیشہ ان کی بھلائی کے لئے ہی کام کرے گا ۔
اس پر سب نے ”کالو زندہ باد“ کانعرہ لگایا ۔ کالو کی زندگی میں آنے والی تبدیلی سے سب بے حدخوش تھے ۔
6th Aug 2008, 01:55 am. |
| |
|
|
|
|
| |
اور راز کھل گیا! 06-Aug-2008, 01:59 AM |
 |
|
خدادیکھ رہا ہے 06-Aug-2008, 01:58 AM |
 |
|
دھنک کی کہانی 06-Aug-2008, 01:57 AM |
 |
|
اورپری ناراض ہوگئی 06-Aug-2008, 01:56 AM |
 |
|
میکسیکو کی ہزاروں سال پرانی مایا تہذیب 06-Aug-2008, 01:54 AM |
 |
|
مسلم بچوں کی پذےرائی اورتعلےمی رجحان کو بڑھاوا دےنا ہی ہمارا نصب العےن 30-Jul-2008, 02:33 AM |
 |
|
بے مرّوت، بے لہو 23-Jul-2008, 01:55 AM |
 |
|
مُناجات 23-Jul-2008, 01:55 AM |
 |
|
سرکس 23-Jul-2008, 01:54 AM |
 |
|
ریحان آفاق (حیدرآباد) 23-Jul-2008, 01:53 AM |
 |
|
سنہری الفاظ 23-Jul-2008, 01:53 AM |
 |
|
چڑیا 23-Jul-2008, 01:52 AM |
 |
|
ذرا ہنس لیں 23-Jul-2008, 01:51 AM |
 |
|
مستقبل کی پہلی سیڑھی 23-Jul-2008, 01:51 AM |
 |
|
جذبے کی جیت 23-Jul-2008, 01:48 AM |
 |
|
|
|
|
| |
|
|
|