Friday, September 10, 2010, 04:03:54 PM Download Font  |   Urdu Keyboard  |   On-Screen Keyboard  
The Urdu Times Daily, Mumbai
Home Aaj Kal Analysis Editorial Entertainment Sports News Mumbai News Regional News Islamic News World News National News
         
  اورپری ناراض ہوگئی

٭آمنہ کریم:
بہت زمانے کی بات ہے کہ ایک گاو¿ں میں میاں بیوی رہتے تھے ، وہ دونوں بہت غریب تھے ، یہاں تک کہ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا لیکن خوش قسمتی سے ان لوگوں کے جھونپڑی نما گھر کے سامنے ایک تالاب تھا جس میں مچھلیاں تھیں ،وہ آدمی روزروزدو، ، تین مچھلیاں پکڑ کر لے جاتا اور اس کی بیوی پکالیتی اور وہ دونوں مل کر کھالیتے لیکن وہ آدمی ہر وقت پریشان رہتا تھا کیوں کہ ا سکی بیوی ہمیشہ اس سے لڑتی جھگڑتی تھی کہ شہر یہاں گاو¿ں میں رہ کر روز مچھلیاں نہیں کھا سکتی ۔لیکن شوہرچلو نے اسے کئی بار سمجھایا کہ اللہ تعالی ٰ جتنا دیتا ہے اسی میں شکرادا کرنا چاہئے لیکن اس کی بیوی پر ان باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا ۔
ایک دن شوہر بے چارہ ، بے حال تالاب کے کنارے پہنچاتا کہ کچھ مچھلیاں پکڑ کر اپنی اور اپنی بیوی کا پیٹ بھر سکے ۔جب اس نے مچھلی پکڑنے کیلئے جال پانی میں ڈالا تو اسے ایسا لگا کہ جال کہیں اٹک گیا ہے تو وہ جال کھینچنے لگا لیکن جال اسے بہت بھاری لگا پھر بھی اس نے جیسے تیسے کر کے جال نکال لیا۔ جب اس نے جال نکالا تو حیران و پریشان رہ گیا کیوں کہ جال میں ایک بڑی عجیب وغریب مچھلی پھنس گئی تھی ۔ اس نے حیران ہو کر اپنے دل میں سوچا کہ اتنے بڑے تالاب میں اتنی بڑی مچھلی ....وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ وہ مچھلی اچانک غائب ہوکر ایک پری بن گئی۔ دیکھ کر وہ بہت پریشان ہوجاتا ہے اور ڈر جاتا ہے ۔ اس سے پہلے وہ ڈر سے بھاگ جائے ، پری نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے کچھ نہیں کرے گی بلکہ وہ تو اس کی شکر گزار ہے کہ اس نے پری کو پانی سے آزاد کیا۔ اس نے پری سے پوچھا کہ وہ مچھلی کیسے بنی، تو پری نے اسے کہانی بتائی کہ اسے ایک جادو گرچاہتا تھا اور جادوگر پری سے شادی بھی کرنا چاہتا تھا لیکن پری نہ تو اس سے شادی کرنا چاہتی تھی اورنہ اس کو پسند کرتی تھی ۔ جب یہ بات جادو گر کوپتہ چلی کہ پری اسے سے نفرت کرتی ہے تو جادو گر غصے میں آکر پری کو مچھلی بنا کر پانی میں قید کرلیا ۔اگر مجھے تم یہاں سے نہ نکالتے تو شاید میں ز ندگی بھر اس پانی میں قید رہتی ۔
جب یہ سارا واقعہ اس نے سنا تو اس کو پری پر بہت افسوس ہوا، تب اس نے پری کو اپنی غربت اور لڑا کو بیوی کی داستان سنائی ، تو پری نے اس سے کہا کہ فکرمت کرو، تم نے مجھے پانی سے آزاد کر کے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے ۔ اس لئے میں تمھاری تین خواہشات پوری کردوں گی ....اور پری نے اس کو یہ بھی بتا دیا کہ دھیان رکھنا مجھے کوئی غلط خواہش پوری کرنے کو نہ کہنا ۔یہ سنتے ہی وہ بہت خوش ہوا اور جلدی سے جا کر اپنی بیوی کو ساری بات بتا دیتا ہے ،تو اس کی بیوی بھی بہت خوش ہوجاتی ہے اورپری کو دیکھ کر اس کے من میںلالچ جاگ اٹھتی ہے ۔پری جب ان سے پہلی خواہش پوچھتی ہے تو میاں صاحب کی بیوی جلدی سے کہتی ہے ہمیں بہت سار ے پیسے چاہئے ۔اتنے پیسے کہ ہمیں زندگی بھر کیلئے کافی ہوں گے ۔ یہ سن کر پری کہتی ہے کہ تم دونوں اپنے گھر جاو¿ اپنی آنکھیں بند کرو، تو وہ دونوں بھاگے بھاگے اپنے گھر جا کر آنکھ بند کر لیتے ہیں ،جب تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں اپنی آنکھیں کھول دیتے ہیں تو بہت خوش ہوجاتے ہیں ۔ کیوں کہ پری ان کی پہلی خواہش پوری کر چکی ہوتی ہے لیکن بیوی پھر بھی بہت افسرد ہ ہو کر کہتی ہے کہ ہم نے اس سے صرف پیسے مانگے ہیں ، بہت بڑاشہر والا گھر تونہیں مانگا ۔میاں صاحب اس سے کہتا ہے کہ فکرمت کرو کل وہ پری آئے گی ہم اس سے بڑا گھر بھی مانگ لیں گے لیکن بیوی میاں صاحب سے لڑتی ہی نہیں بلکہ اس پری کو برا بھلا کہتی تھی جس نے اس کو اتنے سارے پیسے دیئے ہیں۔ میاں اسے بہت سمجھاتا ہے لیکن یہ جانتے ہوئے کہ میر ی بیوی پر میرے سمجھانے کا کوئی اثر نہیں ہوگا ،ا س لئے وہ چپ ہوگیا۔ دوسرے دن جب پری تالاب کے کنارے پہنچی تو میاں بیوی اس کا پہلے سے انتظار کر رہے تھے ۔جب بیوی نے پری کو دیکھا تو وہ خوشی سے جھوم اٹھی اور پری کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کہا کہ ہمیں آج ایک بہت بڑا گھر چاہئے ۔پری نے پھر وہی بات دہرائی کہ اپنے گھر جا کر آنکھیں بند کر لو ،وہ دونوں جلدی سے گھر جا کر آنکھیں بند کر لیں ۔ کچھ دیر بعد آنکھیں کھول دیتے ہیں تو انہوں نے اپنے آپ کو ایک بہت خوب خوبصورت اور بڑے گھر میں پایاجو کہ محل سے کم نہ تھا ۔ تیسرے دن جب پری آئی تو کہا کہ تم لوگ اپنی تیسری خواہش بھی بتا دو تا کہ میں اپنی دنیامیں واپس چلی جاو¿ں ۔یہاں صاحب کی بیو ی نے کافی دیر تک سوچا کہ اب کیا مانگوں ، میرے پاس تو سب کچھ ہے ۔ میرے پاس تو بہت سارے پیسے اور بہت بڑا گھر ہے اور اب میں پری سے کیا مانگوں ۔ کافی دیر سوچ بچار کے بعد اس کے دماغ میں ایک بری خواہش جنم لیتی ہے اور پری سے کہا ہمارے پاس سب کچھ ہے ،آج تم ایک ایسا جادو کرو کہ آسمان کے ستارے آکے ہمیں سجدہ کریں ۔یہ سنتے ہی پری کے پر کھل گئے کیوں کہ یہ ایک بری خواہش تھی ۔ پری نے ان دونوں سے کہا اپنے گھر میں جا کر اپنی آنکھیں بند کر لو دونوں نے گھر جاکر اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ جب دونوں اپنی آنکھیں کھولتے ہیں تو یہ دونوں کیا دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں اپنی وہی پھٹی پرانی جھونپڑی میں پڑے ہیں ۔ یہ دیکھ کر میاں صاحب کی بیوی بہت رونے پیٹنے لگی کہ دھوکا ہو گیا ۔ بیوی کے چلانے سے ہی اس کے میاںکو یاد آتا ہے کہ پری نے مجھے پہلے سے ہی کہا تھا کہ کوئی بری خواہش مت کرنا ۔ جب وہ بات اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تمھاری ہی وجہ سے ہمارے پاس جو بھی تھا وہ بھی نہ رہا۔ یہ سن کر اس کی بیوی کو بہت افسوس ہوتا ہے کہ اس نے لالچ میں آکر بری خواہش کا اظہار کیا ۔ اور پری ان دونوں کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر چلی جاتی ہے اور یہ دونوں اپنی بری خواہش کے انجام کی وجہ سے غریب رہ کر وہ جاتے ہیں ، اسی لئے بچو ،کہتے ہیں کہ خواہش چاہے بڑی ہویا چھوٹی لیکن بری نہ ہو ۔

6th Aug 2008, 01:56 am.
         
 
اور راز کھل گیا!
06-Aug-2008, 01:59 AM
خدادیکھ رہا ہے
06-Aug-2008, 01:58 AM
دھنک کی کہانی
06-Aug-2008, 01:57 AM
”کالو زندہ باد“
06-Aug-2008, 01:55 AM
میکسیکو کی ہزاروں سال پرانی مایا تہذیب
06-Aug-2008, 01:54 AM
مسلم بچوں کی پذےرائی اورتعلےمی رجحان کو بڑھاوا دےنا ہی ہمارا نصب العےن
30-Jul-2008, 02:33 AM
بے مرّوت، بے لہو
23-Jul-2008, 01:55 AM
مُناجات
23-Jul-2008, 01:55 AM
سرکس
23-Jul-2008, 01:54 AM
ریحان آفاق (حیدرآباد)
23-Jul-2008, 01:53 AM
سنہری الفاظ
23-Jul-2008, 01:53 AM
چڑیا
23-Jul-2008, 01:52 AM
ذرا ہنس لیں
23-Jul-2008, 01:51 AM
مستقبل کی پہلی سیڑھی
23-Jul-2008, 01:51 AM
جذبے کی جیت
23-Jul-2008, 01:48 AM
 
 
 
Search
       
  کون سنے مری نوا تےز ہوا کے شور مےں  
  آپ اپنے باپ داد ا کی ڈھائی سو کروڑ  
  ہندوستان میں سفےد پوش چوروں کی چاندی  
  شرم تم کو مگر نہےں آتی !  
  اب مائی نےم از خان پارٹ ٹو  
  بہن کے عاشق کو قتل کر کے آنگن مےں دفن کر دےا  
  مصےبت، صبر اور رضا  
  عوامی عدالت  
  اندھیر نگری چوپٹ راج  
  زکوٰ ة دینے کے نام پر درجنوں معذور اپاہج مرد خواتین کو لوٹ لیا  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ  
  مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں  
  اور راز کھل گیا!  
  خدادیکھ رہا ہے  
  دھنک کی کہانی  
  اورپری ناراض ہوگئی  
  ”کالو زندہ باد“  
  ٭تھانے مےونسپل کارپورےشن کے محکمہ حفظان صحت مےں مواقع  
  آخر AMIEگرےجوےٹ لےول فارمل اےجوکےشن کےا ہے؟  
  ہندوستان میں پریمیئر کالج میں حصہ داری  
  مہنگی تعلےم نے مستحق طلبا ءکے ارمانوں کا گلا گھونٹ دےا  
  بےنک آف بڑودہ کو کلرکوں کی ضرورت  
  قصر سفید میں مرد سیاہ....  
  فرقہ پرستی ‘ ڈاکہ وقتل جیسا جرم کیوںنہیں ؟  
  اُمت مسلمہ کے مسائل  
  ادائیگیِ نماز: آداب و احکام  
  بیت المقدس ....کسی ایوبی کے انتظار میں  
  ام المومنےن حضرت عائشہ ؓ  
  خوبصورت لباس اور خوبصورت نظر آنا ہر خاتون کی خواہش  
  رمضان المبارک اور خواتےن کے شب وروز  
  زینب سلیم ڈار  
  ماہ صےام مےں خصوصی پکوانوں کا اہتمام کرےں!  
 
 
 
Home | National News | Regional News | Mumbai News | World News | Islamic World | Aaj Kal | Analysis | Editorial | Entertainment | Sports | Contact us | Privacy Policy
Copyright © Roznama Urdu Times Mumbai | All Rights Reserved.
Site devloped by UNN IT