Friday, September 10, 2010, 03:41:08 PM Download Font  |   Urdu Keyboard  |   On-Screen Keyboard  
The Urdu Times Daily, Mumbai
Home Aaj Kal Analysis Editorial Entertainment Sports News Mumbai News Regional News Islamic News World News National News
         
  دھنک کی کہانی

٭وقار محسن:
سیکڑوں برس پہلے کی بات ہے کہ دنیا میں زبر دست قحط پڑا ۔ تالاب ،نہریں اور کنویں خشک ہو گئے ۔فصلیں دھوپ سے جل گئیں ۔ ہزاروںپیاس سے تڑپ تڑپ کر مر گئے اور پیاسی زمین چٹخنے لگی ۔مرغزاروں اور پہاڑوں کے دامنوں میں کھلے پھول بے چین نظروںسے آسمان کی گود میں تیرتے بادلوں کی ٹکڑیوں کو دیکھتے رہتے ہیں ۔ ایک صبح جب ننھی مونا اپنی سہیلیوں کے ساتھ باغ میں آئی تو اس نے دیکھا کہ باغ میں سناٹا ہے ، نہ چڑیوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی تھی ۔ اور نہ بھنوروں اور شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ۔باغ میں پھولوں کی مہک بھی نہ تھی ۔ گلاب کے پھول اور ننھی کلیاں سرجھکائے کچھ سوچ رہے تھے ۔ ننھی مونا نے گلاب کی نازک گردن اٹھا کر پوچھا ۔
” پھولوں کے راجا ، تم کیوں اداس ہو ؟“
گلاب کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ننھی مونا بھی روپڑی اور گلاب کو پیار سے اپنے چہرے سے لگا لیا۔
گلاب نے سسکی لے کر کہا ” مونا بہن ! تمھیں تومعلوم ہے کہ پانی سب کی زندگی ہے ۔ سورج کی تیز کرنیں ہمارے جسموں کو جلا رہی ہے ۔“
”گلاب بھیا !میرے ڈیڈی کہتے ہیں کہ بادلوں سے پانی کے لئے کیوں درخواست نہیں کرتے ؟“ ننھی مونا نے مشورہ دیا ۔
”مونابہن ٹھیک کہتی ہے۔ ہمیں بادل کے پاس جانا چاہئے ۔“ باغ کے سارے پھول اور پرندے یک زبان ہو کر بولے ۔ پھولوں نے طے کیا کہ پھولوں کے نمائندے ننھی مونا کے ساتھ بادل کے پاس جائیں گے ۔اسی دوپہر کو ننھی مونا گلاب ، گیندا ،چنبیلی اور لالہ ایک برق رفتار عقاب پر سوارہوکر بادل کے پاس پہنچے ننھی مونا نے بادل کا دامن پکڑ کر کہا ۔
”بادل بھیا ! ہم پھولوں کی طرف سے التجا لے کر آئے ہیں کہ آپ باغ میں منتظر بیاسے پھولوں پر پانی برسا دیں ،ورنہ پھول مرجھاجائیں گے ۔“
”مجھے روم کے بادشاہ کے باغ میں پانی برسا نا ہے ۔ دو ٹکے کے جنگلی پھولوں کے لئے میرے پاس وقت نہیں ۔ “ بادل تیزی سے اپنا دامن چھڑا کر آگے بڑھ گیا ۔ بادل کی یہ بے رخی دیکھ کر گلاب نے ہوا کا دو پٹا پکڑ کر کہا ۔
”ہو ابہن ! کیا تم بھی ہماری مدد نہ کرو گی ؟ کیا تم بادل کو گھیر کر باغوں کی طرف نہیں لا سکتی ؟ دیکھو اگر پھول نہ رہے تو حسن نہ رہے گا اور حسن کا نام ہی زندگی ہے ۔ننھے منے پھول بچوں کے چہرے کی لالی دراصل گلاب کے پھولوں کا عکس ہے “
” مجھے اطالوی ملکہ کے بال سکھا نے ہیں جو اپنے محل کی چھت پر میری منتظر ہے اور پھر اگر پھول نہ بھی کھلیں تو دنیا کا کون سا کام رک جائے گا۔“ ہوا نے لا پروائی سے اپنے دوپٹے کا پلو چھڑاتے ہوئے کہا اورسرسر تی ہوئی آگے بڑ ھ گئی۔
ہو اکی طرف سے بھی نا امیدہو کر ننھی مونا پھولوں کولے کر سورج کی طرف روانہ ہو گئی ۔ سورج کے قریب پہنچ کر ننھی مونا کا سارا جسم پسینے سے بھیگ گیا ۔ پھولوں کے چہرے بھی مرجھا گئے سورج بھی اپنے سنہرے تخت پر سوار ہو کر کہیں جانے کی تیاری کررہا تھاکہ لالہ نے سورج کے قریب جا کر کہا ۔
”سورج بھیا !زمین پر پھول ، پودے ، جانور اور پرندے پیاس سے بے جان ہورہے ہیں ۔ کیا تم سمندر کو اپنی تیز کرنوں سے یہ پیغام نہیں بھیج سکتے کہ وہ بادلوں کو پانی دے کر ہماری طرف بھےج دے ۔ دیکھو سورج بھیا !اگر لالہ مر گیا تو آسمان پر کبھی شفق نظر نہ آئے گا ۔
”پیارے پھولو !مجھے افسوس ہے کہ میں اس وقت تمھاری مدد نہیں کر سکتا ،کیوں کہ مجھے روس کے بادشاہ کی طرف سے پیغام آیا ہے کہ شاہی محل کہر اسے گھرا ہوا ہے اور وہاں سخت ٹھنڈ ہے ،اگر میں فوراً نہ پہنچا تو ایک دوجانیں ضائع ہو جائیں گی ۔ اور ویسے بھی ،پھول تو صرف بادشاہوں کے تاجوں کی زینت بڑھانے کے لئے ہوتے ہیں۔“
سورج کی باتیں سن کر چنبیلی غصے سے کانپ اٹھی اور بولی۔
”پھول ہرگز تاجوں کی زینت کے لئے نہیں ہوتے ،بلکہ تاجوں ،کلائیوں اور گلوں میں قید کیا جاتا ہے ۔مغرور سورج پھول چمن کی زینت اور بچوں کے دوست ہوتے ہیں ۔“ سورج نے چنبیلی کے الفاظ کی پروانہ کی اور سنہرے تخت پر بیٹھ کر روانہ ہوگیا۔
ننھی مونا اور پھولوں کے نمائندے مایوس ہو کر واپس آگئے ۔باغ میں آکر جب انہوں نے پھولوں ،کلیوں ، پودوں اور پرندوں کو بادل ، ہوا اور سورج کی بے رخی کے بارے میں بتایا تو سب کو بہت غصہ آیا اور انہوں نے طے کر لیا کہ وہ اب کسی سے رحم کی بھیک نہ مانہ مانگیں گے ۔
اگلی صبح جب سورج اپنے تخت پر سوار ہوکر گشت کے لئے نکلا تو اس نے دیکھا کے سارے مرغزار ، کھیت ، باغ ، ویران پڑے ہیں ۔ہر شئے پرموت کی سی خاموشی ہے ۔پھولوں نے اپنی گرد نیں پہلے پتوں میں چھپا لی تھیں جس سے باغوں میں اندھیرا سا پھیلا ہو اتھا ۔ ننھے منے بچے باغوں کی روشوں پر اداس کھڑے تھے ،کسی کا کھیل میں دل نہیں لگتا تھا۔ بچوں کی گالوں کی لالی غائب ہو چکی تھی ۔ ان کی چنچل آنکھوں میں آنسو تھے ۔تیز دھوپ کے بعد اندھیرا چھا گیا ،لیکن آسمان کے ماتھے پر شفق نہ پھوٹی ۔ہوا نے محسو س کیا کہ آج اس کی گود خالی ہے ۔ اس کی گود میں کھےلنے والے شگوفے اس سے ناراض تھے ، فیکٹریوں ، کھیتوں اورمحفلوں میں ہر جگہ اداسی پھیلی ہوئی تھی ۔ لوگ ایک دوسرے پر جھنجھلا رہے تھے ۔ کسی کو علم نہ تھا کہ پھول روٹھ گئے ہیں ۔ ممی کے کافی اصرار کے باوجود ننھی مونا نے کھانا نہ کھایا اور بھوکی سو گئی ۔
آدھی رات کے قریب سورج نے ہوا کو اپنے محفل میں بلایا اور کہا کہ اگر پھول اسی طرح روٹھے رہے تو یہ دنیا قبرستان بن جائے گی اس لئے تم فوراً جاو¿ اور سمندر کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ کل صبح سویرے میدانوں ، باغوں اور پہاڑوں کا چپہ چپہ سیراب ہو جانا چاہئے ۔

6th Aug 2008, 01:57 am.
         
 
اور راز کھل گیا!
06-Aug-2008, 01:59 AM
خدادیکھ رہا ہے
06-Aug-2008, 01:58 AM
اورپری ناراض ہوگئی
06-Aug-2008, 01:56 AM
”کالو زندہ باد“
06-Aug-2008, 01:55 AM
میکسیکو کی ہزاروں سال پرانی مایا تہذیب
06-Aug-2008, 01:54 AM
مسلم بچوں کی پذےرائی اورتعلےمی رجحان کو بڑھاوا دےنا ہی ہمارا نصب العےن
30-Jul-2008, 02:33 AM
بے مرّوت، بے لہو
23-Jul-2008, 01:55 AM
مُناجات
23-Jul-2008, 01:55 AM
سرکس
23-Jul-2008, 01:54 AM
ریحان آفاق (حیدرآباد)
23-Jul-2008, 01:53 AM
سنہری الفاظ
23-Jul-2008, 01:53 AM
چڑیا
23-Jul-2008, 01:52 AM
ذرا ہنس لیں
23-Jul-2008, 01:51 AM
مستقبل کی پہلی سیڑھی
23-Jul-2008, 01:51 AM
جذبے کی جیت
23-Jul-2008, 01:48 AM
 
 
 
Search
       
  کون سنے مری نوا تےز ہوا کے شور مےں  
  آپ اپنے باپ داد ا کی ڈھائی سو کروڑ  
  ہندوستان میں سفےد پوش چوروں کی چاندی  
  شرم تم کو مگر نہےں آتی !  
  اب مائی نےم از خان پارٹ ٹو  
  بہن کے عاشق کو قتل کر کے آنگن مےں دفن کر دےا  
  مصےبت، صبر اور رضا  
  عوامی عدالت  
  اندھیر نگری چوپٹ راج  
  زکوٰ ة دینے کے نام پر درجنوں معذور اپاہج مرد خواتین کو لوٹ لیا  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  ڈی اےن اے تخلےق الٰہی کا کرشمہ  
  ”ہو مےو پےتھی ۔ انہونی پےتھی“  
  روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ  
  مالی نقصانات سے ہم بےمار ہو سکتے ہےں  
  اور راز کھل گیا!  
  خدادیکھ رہا ہے  
  دھنک کی کہانی  
  اورپری ناراض ہوگئی  
  ”کالو زندہ باد“  
  ٭تھانے مےونسپل کارپورےشن کے محکمہ حفظان صحت مےں مواقع  
  آخر AMIEگرےجوےٹ لےول فارمل اےجوکےشن کےا ہے؟  
  ہندوستان میں پریمیئر کالج میں حصہ داری  
  مہنگی تعلےم نے مستحق طلبا ءکے ارمانوں کا گلا گھونٹ دےا  
  بےنک آف بڑودہ کو کلرکوں کی ضرورت  
  قصر سفید میں مرد سیاہ....  
  فرقہ پرستی ‘ ڈاکہ وقتل جیسا جرم کیوںنہیں ؟  
  اُمت مسلمہ کے مسائل  
  ادائیگیِ نماز: آداب و احکام  
  بیت المقدس ....کسی ایوبی کے انتظار میں  
  ام المومنےن حضرت عائشہ ؓ  
  خوبصورت لباس اور خوبصورت نظر آنا ہر خاتون کی خواہش  
  رمضان المبارک اور خواتےن کے شب وروز  
  زینب سلیم ڈار  
  ماہ صےام مےں خصوصی پکوانوں کا اہتمام کرےں!  
 
 
 
Home | National News | Regional News | Mumbai News | World News | Islamic World | Aaj Kal | Analysis | Editorial | Entertainment | Sports | Contact us | Privacy Policy
Copyright © Roznama Urdu Times Mumbai | All Rights Reserved.
Site devloped by UNN IT