|
|
|
| |
 |
|
| |
|
|
|
|
| |
غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ!!
آپکے تجربے اور مشاہدے میں ایسے لوگ یقیناً ہونگے جو اپنی بات پر اَڑ جاتے ہیں اپنی غَلطی یا سہو پرغور کرنے کے بجائے اس پر اصرار اور اپنی بات( سہو/غلطی) کو صحیح ثابت کرنے کےلئے اِدھر اُدھر سے دلیل وغیرہ بھی ڈھونڈ ڈھانڈ لاتے ہیں۔ بالخصوص شاعروں میں اس طرح کے لوگ زیادہ ملیں گے۔ میں اکثر ایسے لوگوں سے یہ کہتا ہوں کہ بھائی! آپ معصوم(حقیقی معنی لیں) ہو سکتے ہیں مگر میں اپنے آپ کو معصوم نہیں سمجھتا ، میں ابنِ آدم ہوں اور ایک آدمی کی سرشت میں سہو، بھول، چوک اور غلطی کا ہونا عجب نہیں۔ لکھنے والوں سے غلطی ہو جائے تو اکثر بغیر سوچے سمجھے ہم دوسرے کو ’جاہل‘ کہہ دیتے ہیں جو صحیح عمل نہیں۔ در اصل جاہل وہ ہے جو سہو/غلطی کا مرتکب بھی ہو اور اپنے اس ارتکاب پر نادم ہونے کے بجائے اُس(غلطی) پر اصرار کرے۔ سچ تو یہ ہے کہ نفس ہم سب کے ساتھ لگا ہوا ہے اور کس وقت کس طرح ہم ،نفس کے شکار ہو جائیں! کہا نہیں جاسکتا ۔ اسی لئے بزرگوں نے کہا ہے کہ ہر وقت اپنے مالک سے پناہ مانگتے رہو کہ اسی میں عافیت پوشیدہ ہے۔ یہ باتیں یوں لکھی گئیں کہ اُردو ٹائمز کے ایک قاری نے ہمیں(ایک غلطی کی طرف) متوجہ کیا ہے کہ گزشتہ جمعے ۱۶ جولائی کے اسی کالم میں ہم نے محمد علی روگھے کا ذکر کیا ہے جس میں لکھا تھا کہ جے جے ہسپتال کی زمین محمد علی روگھے نے (برائے نام) قیمتاً دی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی اخبار کے معیار کے ضامن اس کے قاری ہوتے ہیں۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی کہ آج بھی ہمارے اس روزنامے کو ایسے قاری میسر ہیں کہ جو صرف اپنے نام یا تصویر کی اشاعت کو ہی مقدم نہیں جانتے۔
جنابِ رفیق احمد( علیگ) کا کہنا ہے کہ ہم نے جے جے ہسپتال کے حوالے سے محمد علی روگھے کا ذکر کیا ہے جبکہ یہ معاملہ محمد علی روگھے کا نہیں بلکہ محمد حسین مرگھے کا ہے اور اُنہوں نے کوئی بھی قیمت نہیں لی بلکہ جب سر جمشید جی نے مجوزہ ہسپتال کو ان سے موسوم کرنے کی بات کہی تو انہوں( مرگھے ) نے جو جواب دیا وہ ہمارے دور کے ، ہمارے قوم کے عام دولتیوں کےلئے ایک تازیانے سے کم نہیں۔
فرمایا مرگھے نے: مسلمان اپنے نام کےلئے نہیں بلکہ جو کچھ دیتا ہے اللہ کے نام پر دیتا ہے۔
یہ بات جناب رفیق احمد ( علیگ) نے ایک کتاب کے حوالے سے لکھی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ’ہسٹری آف بائےکلہ کلب‘ نامی یہ کتاب اُنہوں نے برسوں قبل ایشیا ٹک لائبریری، ٹاو¿ن ہال(ممبئی) میں دیکھی تھی۔ جس کا مصنف کوئی انگریز تھا جو لندن سے شائع ہوئی تھی۔
اِنہی کی( ہمارے لئے) اِطلاع ہے کہ آج کل جو YMCA میدان مشہور ہے وہ انہی محمد حسین مرگھے (پلے گراو¿نڈ) سے منسوب ہے۔
جنابِ رفیق احمد( علیگ) نے پہلی با ت جو کی ہے ہم اس کے بارے میں کچھ عرض نہیں کریں گے مگر اُن کے دوسرے بیان کہ محمد حسین پلے گراو¿نڈ” محمد حسین مرگھے (پلے گراو¿نڈ) سے منسوب ہے۔ “ اس پر ہمیں اعتراض ہے کہ یہ گراو¿نڈ محمد حسین مرگھے سے نہیں بلکہ اس علاقے کے ایک مشہور فٹ بال کوچ محمد حسین سے موسوم ہے۔ ہمارے رفیقانِ مدن پورہ بتاتے ہیں کہ یہ’ کوچ محمد حسین ‘بڑی مسجد(مدن پورہ) کے قریب رہتے تھے انکے بیٹے ارشد اور ایاز آج بھی فٹ بال کے ایک اچھے کھلاڑی کے طور پر معروف ہیں۔
ہم اپنے ایک اور سہو جو ہماری ادھوری معلومات کا نتیجہ تھا ،اس کا بھی آج اِزالہ کرنا چاہیں گے کہ ایک زمانہ تھا کہ لوگ اپنے نام کے ساتھ اپنی ولدیت بھی لکھتے تھے مثلاً احسان بن دانش جو بعد میں احسان دانش ہوئے۔ اس کے علاوہ بعض نامور لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جو صرف اپنے باپ کے نام سے ہی(قصداً) مشہور ہوئے جن میں سامنے کے دو نام ہیں ایک تو ابنِ صفی ( جاسوسی دُنیا) دوسرے ابنِ سعید( رومانی دُنیا) ہم نے شروع میں اپنے جس کالم ( مطبوعہ:جمعہ ۱۶ جولائی)کا ذکر کیا ہے اسی میں صابوصدیق کا بھی تذکرہ تھا۔ ہمارے شفیق اور ندیم ِبزرگ مولا نا مستقیم اعظمی نے بتایا کہ ہمارے ہاں ایک غلط فہمی عام ہے کہ جو کچھ صابو صدیق کے نام سے منسوب ہے وہ صابو صدیق کی دین ہے جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ سب’ محمد‘ کی دین ہے جنہوں نے ۲۳ یا ۲۴ سال کی ہی عمر پائی اور اتنی کم عمری میں ہی کیاکچھ کوقوم دے گئے۔ یہ ’ محمد‘ دراصل حاجی صابو صدیق کے فرزند تھے جو اپنے نام کے ساتھ اپنے والد کا نام بھی لکھتے تھے یعنی’ محمد حاجی صابو صدیق‘ ۔ اس طرح کچھ جان لینے کا جو احسا س ہمارے ہاں پیدا ہو سکتا تھا وہ اِن باتوں سے یقیناً قبل از وقت ساقط ہو گیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہی تو ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور جب اس کی مرضی ہوتی ہے تو اس میں سے ’کچھ‘ ہمیں بھی دیدیتا ہے۔ ورنہ ہمارا علم تو بس وہی ہے جو کہا گیا ہے کہ” علم ایک سمندر ہے اور تمہیں جو دِیا گیا ہے وہ اسی سمُندر کی ایک بوند ہے ایک بوند۔“ اور بوند کو ہی قطرہ بھی کہتے ہیں قطروں سے وجود پانے والے کو یہ کب زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے علم پر اِترائے۔آج شب ِبرا¿ت ہے ۔ہم دُعا گو ہیں کہ وہ ہمیں
علم ہی نہیں ہر احساسِ برتری سے بچائے۔(آمین) ن۔ ص
27th Jul 2010, 02:00 pm. |
| |
|
|
|
|
| |
الوداع اے ماہ صیام الوداع 09-Sep-2010, 05:26 PM |
 |
|
آج متبرک مہےنے اور مقدس عےد کی لاج رکھنے کا دن 08-Sep-2010, 04:03 PM |
 |
|
ممبرا کا کالسیکرہسپتال مالداروں کےلئے بنا ہے یا غریبوں کےلئے ! 07-Sep-2010, 04:11 PM |
 |
|
کیایہی ’شب قدر ‘کی قدرہے؟ 06-Sep-2010, 04:20 PM |
 |
|
مسلمانو!خدا کے لئے اب تو صفوں مےں اتحاد پےدا کرلو 05-Sep-2010, 03:08 PM |
 |
|
رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ختم ہورہا ہے مگر مسلمان ....! 04-Sep-2010, 04:13 PM |
 |
|
رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ختم ہورہا ہے مگر مسلمان ....! 03-Sep-2010, 03:36 PM |
 |
|
بیشک اللہ بے نیازہے مگر بے خبر ہر گز نہیں ! 02-Sep-2010, 04:06 PM |
 |
|
بیشک اللہ بے نیازہے مگر بے خبر ہر گز نہیں ! 02-Sep-2010, 04:04 PM |
 |
|
بابری مسجد کا فیصلہ مسلمانوں کےلئے سخت آزمائش 01-Sep-2010, 05:02 PM |
 |
|
گنتی کے دِن بچے ہیںتمہاری نجات کے ! 31-Aug-2010, 03:59 PM |
 |
|
بے شرم پاکستانی کرکٹ کھلاڑی 30-Aug-2010, 03:23 PM |
 |
|
بے شرم پاکستانی کرکٹ کھلاڑی 30-Aug-2010, 03:22 PM |
 |
|
خوب بنا ہے دھندہ،لاو¿ چندہ ،لاو¿ چندہ 29-Aug-2010, 05:31 PM |
 |
|
جب منصف ہی مجرم ہو جائیں تو....!! 27-Aug-2010, 02:37 PM |
 |
|
|
|
|
| |
|
|
|